Hyperloop project in India inches closer to reality

بھارت میں ہائپرلوپ پراجیکٹ حقیقت بننے جا رہا ہے

ابھی تک دنیا میں کہیں بھی مکمل طور پر کام کرنے والی ہائپر لوپ نہیں ہے لیکن اب یہ تبدیل ہو سکتا ہے۔بھارتی حکام جلد ہی اس مستقبل کے ٹرانسپورٹیشن سسٹم کی تعمیر کے لیے نیلامی کا انعقاد کرنے والے ہیں۔
ہائپر لوپ کی تیاری میں ابھی  بھی بہت سی مشکلات ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ  یہ انسان مسافروں کے لیے  کتنی محفوظ ہے۔ایلن مسک کے مستقبل کے اس ٹرانسپورٹیشن سسٹم کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام کرنے والی کمپنی  ورجن ہائپر لوپ ون کو امید ہے کہ وہ  اس کی تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
ہائپر لوپ کا یہ پراجیکٹ  مہاراشٹرا کے مغربی شہر  سے شروع کیا جائے گا۔
مہاراشٹرا کے حکام نے ورجن ہائپر لوپ ون اور اُن کے پارٹنر ڈی پی  ورلڈ، ایک شپنگ کمپنی،  کو اس ملٹی بلین پراجیکٹ کے لیے چنا ہے۔مقامی حکومت کو امید ہے کہ جلد ہی وہ پونے سے ممبئی کے لیے  ہائپر لوپ پراجیکٹ کی نیلامی شروع  کر دیں گے۔ اس پراجیکٹ سے دونوں شہروں کا فاصلہ  35 منٹ سے بھی کم وقت میں طے ہوگا۔ اس سے پہلے  کار پر یہ فاصلہ ساڑھے تین گھنٹوں میں طے ہوتا  ہے۔
ورجن ہائپرلوپ ون کو امید ہے کہ وہ اس نیلامی میں فاتح ہونگے اور دنیا   کے پہلے باقاعدہ  فنکشنل ہائپر لوپ پراجیکٹ کو مکمل کریں گے۔
اس پراجیکٹ کے لیے عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ نہیں کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے پر  دوبئی کی بڑی شپنگ کمپنی ڈی پی ورلڈ 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ اس کے بعد اگلے مرحلے میں دوسرے سرمایہ کار رقم فراہم کریں گے۔
ورجن ہائپر لوپ ون نے  نئی فنڈنگ سکیم میں 172 ملین ڈالر جمع کیے ہیں، جس میں سے 90 ملین ڈالر ڈی پی ورلڈ نے دئیے ہیں۔
اس سکیم میں 80 مزید سرمایہ کاروں نے سرمایہ فراہم کیا ہے لیکن سب سے زیادہ رقم ڈی پی ورلڈ نے دی ہے۔ ڈی پی ورلڈ نے ہائپر لو پ سٹارٹ  اپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں  اپنی دو سیٹیں بھی پکی کر لی ہیں۔
اب دیکھنا ہے کہ بھارتی حکام ایسے نظرایاتی  ٹرانسپورٹریشن سسٹم کی تعمیر کی منظوری دیتے ہیں یا نہیں، جو پہلے کبھی انسانوں    نے استعمال ہی نہیں کیا۔ورجن ہائپر لوپ  ون نے ہائپر لوپ کو لاس ویگاس کے شمال میں  واقع صحرا میں ٹسٹ کیا تھا لیکن اس  میں انسان سوار نہیں تھے۔ اسے 240 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر چیک کیا تھا جو کافی تیز رفتار ہے لیکن اس کی نظریاتی 700 میل فی  گھنٹے کی رفتار سے کم ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 1 اگست 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں