Former hacker warns against password reuse

ایک سائٹ پر استعمال ہونے والا پاس ورڈ دوسری سائٹ پر استعمال نہ کریں۔ سابق ہیکر کا مشورہ

30 سالہ کائل میلیکن  کا تعلق آرکنساس ہے۔ ہیکنگ  کا جرم ثابت ہونے پر وہ کافی عرصہ سے جیل میں تھے۔ اب وہ جیل سے باہر آ گئے ہیں۔جیل سے باہر آنے پر انہوں نے  انٹرنیٹ صارفین کو اپنے مفید مشوروں سے نوازا ہے۔
کائل نے 17 سال کی عمر میں ہی ہیکنگ شروع کر دی تھی۔ انہوں  نے مائی سپیس پر  بہت سی مشہور شخصیات کے اکاؤنٹ ہیک کیے اور انہیں انٹرنیٹ مارکیٹنگ سپام میلز بھیجنے کے لیے استعمال کیا۔ جب وہ 5 ہزار ڈالر ہفتہ کمانے لگے تو انہوں نے ای میل، فورم اور سوشل میڈیا کے کئی ملین اکاونٹ ہیک کیے۔
ان کی بڑی وارداتوں میں Disqus کے 17.5 ملین، کک سٹارٹر کے 5.2 ملین اور امگر کے 1.7 ملین  اکاؤنٹ  کی چوری شامل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں لاکھوں ٹوئٹر اور پنٹرسٹ اکاؤنٹ بھی چرائے۔
کائل چوری کیے ہوئے پاس ورڈ کی لسٹ کو دوسری ویب سائٹس پر آزماتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ صارفین ایک سائٹ کے پاس ورڈ دوسری سائٹ پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ جب وہ کسی اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتے تو اس کے سارے کانٹیکٹس  کو سپام پیغامات بھیجتے ۔

انہوں نے اپنے 168 ملین لاگ ان کے ریکارڈز سے 1.4 ملین ڈالر کمائے۔پکڑے جانے پر انہوں نے ایف بی آئی  سے تعاون کیا۔ اپنے بلیک ہیٹ ہیکر (منفی مقاصد کے لیے ہیکنگ کرنے والے) ساتھیوں کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد انہیں 17 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
کائل نے زیڈ ڈی نیٹ کو  ایک انٹرویو میں بتایا کہ لوگوں کا ایک سائٹ کے پاس ورڈ دوسری سائٹ میں استعمال کرنا اُن کی بڑی مدد کرتا تھا۔  کائل کا کہنا ہے کہ صارفین اپنے اکاونٹس کی حفاظت کے لیے ایک سائٹ کے پاس ورڈ دوسری سائٹ میں استعمال نہ کریں۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 19 ستمبر 2019

Share On Whatsapp