Researchers want to build a space station to recycle junk in Earth’s orbit

محققین زمین کے مدار میں خلائی سٹیشن بنا کرخلائی ملبہ ری سائیکل کرنا چاہتے ہیں

زمین  کے گرد کام کرتے ہوئے اور ناکارہ سیٹلائٹس سمیت 22000 مختلف بڑے اجسام گردش کر رہے ہیں۔ ہر طرح کے خلائی ملبے سمیت زمین کے مدار میں کئی پرانے راکٹ  بھی  گردش کر رہے ہیں۔ زمین کے گرد گردش کرنے والے خلائی ملبے میں 1 سینٹی میٹر اور اس سے بڑے سائز کے  دس لاکھ سے زیادہ اجسام شامل ہیں۔سائنسدان ہر سال خلا میں نئی راکٹ لانچ کر رہے ہیں، جس سے اس ملبے کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کسی سیٹلائٹ کے ناکارہ ہونے کا مطلب ہے کہ آپ کے ٹی وی کی نشریات صاف نہ آئیں یا آپ بہتر طور پر موسم کی پیش گوئی نہ کر سکیں ۔
لیکن اس کا  ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہوائی جہازوں کو پرواز میں مشکلات ہوں یا  لوگوں کو طوفانوں کاپتا نہ چل سکے۔
اس خلائی ملبے کو تلف کرنے کے لیے ایک طویل مدتی منصوبے کی ضرورت ہے۔ دی گیٹ وے ارتھ ڈویلپمنٹ گروپ  مختلف یونیورسٹیوں اور ماہرین سے تجاویز لے رہا ہے کہ کس طرح سے خلائی  ملبے کو خلا میں ہی ٹھکانے لگایا جائے۔اس کے لیے 2050 تک گیٹ وے ارتھ کے نام سے مکمل طور پر آپریشنل خلائی سٹیشن بنایا جائے گا۔
یہ خلائی سٹیشن پرانے سیٹلائٹس اور دوسرے کباڑ کو ری سائیکل  کر کے انہیں کام کرنے کے قابل بنائے گا۔
اس خلائی ملبے  کو ری سائیکل کر کے اس سے مستقبل کے خلائی جہاز یا خلائی سٹیشن بنائے جا سکتے ہیں۔خلا میں   بنائے جانے کی وجہ سے ان  پر لانچنگ کا خرچ بھی بچ جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ برطانیہ میں رہتے ہوئے  آسٹریلیا سے اینٹیں درآمد کرنے کی بجائے مقامی میٹریل سے گھر بنا لیا جائے۔خلائی ملبے کو ری سائیکل کرنے سے خلائی تعمیرات کے لیے میٹریل دستیاب ہوگا ۔اس کام سے سالانہ 8 ارب ڈالر کا فائدہ ہوگا لیکن اسے کرنے کے لیے جو خلائی قوانین ہیں، وہ کافی پرانے ہو چکے ہیں، ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔خوش قسمتی سے اقوام متحدہ اس پر پہلے سے ہی کام کر رہی ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 4 اگست 2019

Share On Whatsapp