This AI detects 11 types of emotions from a selfie

یہ مصنوعی ذہانت ایک سیلفی سے 11 جذبات کا پتا چلا سکتی ہے

ہمارے چہرے اور حرکات کا جائزہ لینے والے مشین لرننگ  ماڈل اب  سمارٹ فونز میں فیس انلاک اور اینیموجی جیسے فیچرز سے ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔تاہم مصنوعی ذہانت کے یہ ماڈلز صارفین  کے چہرے کو دیکھ  اُن کے جذبات کا پتا نہیں چلا سکتے۔ یہ کام اب EmoNet کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف کولوراڈو اور ڈیوک یونیورسٹی  کے محققین نے ایسا نیورل نیٹ ڈویلپ کیا ہے جو درستی سے  تصاویر کو 11 جذبات کے لحاظ سے مختلف درجہ بندیوں میں تقسیم کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس ماڈل کی تربیت کرنے کے لیے محققین نے 2187 ویڈیوز استعمال کیں۔ان ویڈیوز  27  مختلف  جذبات، جیسے غصہ، حیرت اور غم،  شناخت کیے جا سکتے تھے۔  
محققین کی ٹیم نے  ان ویڈیو سے 137,482 فریمز حاصل کیے۔ان میں سے 1000 ایسی تصاویر کا انتخاب کیا گیا ، جن میں  ہر طرح کے جذبات تھے۔ مصنوعی ذہانت کی تربیت کے بعد محققین  نے اپنے نتائج  کی  جانچنے کے لیے 25 ہزار تصاویر استعمال کیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت کچھ جذبات جیسے  حسرت اور خوف وغیرہ کا تو درست پتا چلا لیتی ہے لیکن  یہ کنفیوژن، تحسین اور حیرت کا پتا نہیں چلا سکتی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ جذبات میں چہرے کی خصوصیات ایک سی ہوتی ہیں۔
حال ہی میں ہونے والے مطالعوں میں   بہت سے ماہرین نے  دعویٰ کیا کہ  مصنوعی ذہانت کی مدد سے جذبات کی شناخت کے  نتائج پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

تاریخ اشاعت : منگل 30 جولائی 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں