Apple considers moving 15% to 30% of its manufacturing out of China

ایپل اپنی 15 سے 30 فیصد مینوفیکچرنگ چین سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے

ایپل اپنی پروڈکشن کے کچھ حصے کو چین سے  باہر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ نکی ایشن ریویوکی رپورٹ کے مطابق ایپل اپنے کچھ پروڈکشن یونٹ جنوب مشرقی ایشیا میں منتقل کر سکتا ہے۔کمپنی اپنے سپلائر کے ساتھ یہی بات چیت کر رہی ہے کہ وہ چین سے اپنی کتنی گنجائش کو دوسرے ممالک میں منتقل کر سکتے ہیں۔ کمپنی نے یہ فیصلہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان بڑھنے والے تناؤ کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال کی وجہ سے کیا ہے۔

ایپل  اپنی تمام پروڈکشن کا 15 سے 30 فیصد چین سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے، چاہے یہ 300 ارب ڈالر کے ٹیرف کے ساتھ یا بغیر ہی ہو۔
ایپل کی کامیابی میں چین کا کافی بڑا حصہ ہے۔ تاہم کمپنی کے ایگزیکٹوز کا کہنا ہے کہ  کم شرح پیدائش، بڑھتی ہوئی  اجرتیں اور ایک ہی ملک میں تمام  پروڈکشن ہونے کی وجہ سے کمپنی  اب تنوع کے بارے میں سوچ رہی ہے۔
ایپل نے اسمبلر فاکس کون، پیگاٹرون ، ویسٹرون اور سرکٹ ساز کمپنیوں  سے پروڈکشن یونٹ کی منتقلی کے بارے میں بات کی ہے۔
یہ کمپنیاں میک بک، آئی پیڈ اور ائیر پوڈز بناتی ہیں۔
ایپل اپنے پروڈکشن یونٹ جن ملکوں میں منتقل کرنے پر غور کررہا ہے، اُن میں میکسیکو، انڈونیشیا، ملایشیا،بھارت اور ویت نام شامل ہیں۔ بھارت اور ویت نام میں پروڈکشن  یونٹ کی منتقلی کے زیادہ چانسز ہیں۔ویسٹرون کا ایک پلانٹ بھارت میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایپل کے 90 فیصد پروڈکشن یونٹ چین میں ہی ہیں۔
ایپل کو پروڈکشن یونٹ دوسرے ملک میں منتقل کرنے میں تین سال لگ سکتے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک  سپلائر نے  ایک لوکیشن کا جائزہ لینے میں 3 سے 5 ماہ صرف کیے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہاں بجلی  جانے کا  کافی خطرہ ہے۔یہ مسائل چین میں نہیں ہیں کیونکہ حکومت نے  انفراسٹرکچر، پانی، یوٹیلیٹی اور  مزدوروں کے لیے اجتماعی رہائش گاہوں پر کافی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ سہولیات ایسی ہیں، جن کے ہوتے ہوئے ایپل مشکل سے ہی چین کو چھوڑے گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 19 جون 2019

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں