China has a new surveillance tool that identifies citizens by how they walk

چین کا نگرانی کا نیا نظام شہریوں کو اُن کی چال اور جسم کی ساخت سے شناخت کر سکتا ہے

چینی حکام نے نگرانی کے ایک نئے نظام کو لاگو کرنا شروع کر دیا ہے، جو لوگوں کو اُن کی چال  اور جسم کی  ساخت سے شناخت کر سکتا ہے۔
چین میں اس سے پہلے ہی نگرانی کے کئی نظام کام کر رہے ہیں۔ چین اس نئے نظام کو ملک کے دو سب سے بڑے شہروں  بیجنگ اور شنگھائی  کی گلیوں میں پہلے ہی استعمال کر رہا ہے۔ اس نظام کے آمد کے بعد پرائیویسی کے حوالے سے حساس حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت شہریوں پر نظر رکھنے کےلیے کس حد تک جائے گی۔

اس نظام  کو ڈیزائن کرنے والی کمپنی واٹریکس(Watrix) کے سی ای او ہوانگ یونزین نے کہا ہے کہ یہ نظام لوگوں کو 50 میٹر(165 فٹ) کی دوری سے شناخت کر سکتا ہے، چاہے لوگوں کی کمر کیمرے کی طرف ہو یا انہوں نے اپنا چہرہ ڈھانپا ہوا ہو۔
نگرانی کےموجودہ ٹولز میں لوگوں کی شناخت کے لیے چہرے کی نزدیک سے ہائی ریزولوشن تصویر لیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ نیا نظام موجودہ نظام کی خامیوں سے پاک ہے۔واٹریکس کو کسی کی بھی شناخت کرنے کے لیے  اس کی چال کی صاف فوٹیج کی ضرورت ہوتی ہے، چاہے اس وقت اس شخص کی کمر کیمرے کی طرف ہو۔

ہوانگ نے بتایا کہ اس نظام میں شناخت کے حوالے سے لوگوں سے تعاون کی درخواست کرنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہوانگ کا کہنا ہے کہ اس نظام کو چال بدل کر یا لنگڑا چل کر بھی دھوکہ نہیں دیا جا سکے گا کیونکہ یہ پورے جسم کا تجزیہ کرتا ہے۔
کمپنی  100 ملین یوان (14.5 ملین ڈالر) جمع کر چکی ہے۔ چینی حکام اس نظام سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو ملکی سطح پر ایک ہی جگہ جمع کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 7 نومبر 2018

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں