Police watched with chat messages from criminals through access to server

پولیس نے سرور تک رسائی حاصل کر کے مجرموں کے 2 لاکھ 58 ہزار پیغامات پڑھ لیے

ڈچ پولیس نے  مجرموں کے زیر استعمال چیٹنگ ایپ آئرن چیٹ کی انکرپشن کیز حاصل  کر کے 100 سے زیادہ مجرموں کے 2 لاکھ 58 ہزار پیغامات تک رسائی حاصل کر لی۔
اس بات کا اعلان خود نیدرلینڈ کی پولیس ایسٹ نیدر لینڈز نے کیا ۔ پولیس ترجمان نے اس حوالے سے زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔ پولیس نے بتایا کہ چیٹنگ کا یہ سسٹم مخصوص  سمارٹ فونز میں نصب کیا جاتا ہے اور اس کے بعد بس یہی سمارٹ فونز میسج بھیج سکتے تھے۔ مجرموں کے درمیان یہ ساری کمیونی کیشن ایک پرائیویٹ سرور کے ذریعے ہوتی تھی۔
پرائیویٹ سرور فراہم کرنے والی اس کمپنی نے اپنی تشہیر میں دعویٰ کیا تھا کہ اس  کے میسج حکام بھی نہیں پڑھ سکتے۔
مجرموں کی بدقسمتی کہ پولیس کی رسائی اس سرور تک ہوگئی جہاں انکرپشن کیز موجود تھیں۔ انکرپشن کیز کی مدد سے پولیس  براہ راست مجرموں کے نام نہاد کرپٹو فونز سے بھیجےگئے پیغامات پڑھتی رہی۔
پولیس کے مطابق انہوں نے 100 سے زیادہ افراد کے 2 لاکھ 58 ہزار پیغامات دیکھے۔ ان پیغامات میں اسلحے، منشیات، رقم اور بٹ کوائن سے متعلقہ پیغامات بھی تھے۔
جن سمارٹ فونز سے یہ پیغامات بھیجےجاتے تھے، ان کی مالیت 1500 یورو  ہوتی تھی اور ہر 6 ماہ بعد مزید 750 یورو ادا کر کے سبسکرپشن کی تجدید کرانی پڑتی تھی۔
پولیس کو کرپٹو فونز فراہم کرنے والی کمپنی کے مالکان پر پہلے ہی منی لانڈرنگ اور جرائم پیشہ افراد سے رابطے کا شک تھا۔ پولیس نے کئی درجن مجرموں کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاعات لیک ہونے پر مجرم ایک دوسرے پر ہی شک کرنے لگے تھے۔ مجرموں نےا یک دوسرے کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ مجرموں کے اس ممکنہ ردعمل کو دیکھتے ہوئے پولیس نے بہتر سمجھا کہ چیٹ تک رسائی کی خبروں کا اعلان کر دیا جائے۔

تاریخ اشاعت : منگل 6 نومبر 2018

Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں