شہریار آفریدی کی ایوان میں قرآن پاک اٹھانے کی کوشش

اسپیکر نے اجلاس میں وفقہ کردیا، خواجہ آصف نے قرآں پاک لائبریری سے منگوا کردیا، حکومت اور وزارت رانا ثناءاللہ کو کیس سے بھاگنے نہیں دے گی، میں نے کسی بھی جگہ قسم کھائی ہو جو چور کی سزا وہی میری ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد : وفاقی وزیر اینٹی نارکوٹکس فورس شہریار آفریدی نے ایوان میں قرآن پاک اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور وزارت رانا ثناءاللہ کوکیس سے بھاگنے نہیں دے گی، میں نے کسی بھی جگہ کوئی قسم کھائی ہو جو چور کی سزا وہی میری ہے،رانا صاحب قرآن اٹھاتے ہیں عمل بھی کیا کریں۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ کو احساس ہونا چاہیے عدالت کا فیصلہ عدالت میں ہوگا۔
رانا صاحب آپ نے سات ماہ میں حیلے بہانے بنائے۔ ویڈیو کی بات کی گئی، رانا مشہود ، ایان علی کے کیس میں بھی ویڈیوز تھی۔ شہریارآفریدی نے کہا کہ میں نے کسی بھی جگہ کوئی قسم کھائی ہو جو چور کی سزا وہ میری سزا ہے۔ میں نے کہا جان اللہ کو دینی ہے اس پر مذاق اڑایا گیا۔ رانا صاحب قرآن ہاتھ میں اٹھاتے ہیں اس پرعمل بھی کیا کریں۔ حکومت اوروزارت آپ کو اس کیس سے بھاگنے نہیں دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایوانوں میں کسی کو ٹارگٹ کرنے نہیں آئے۔ اے این ایف ایکٹ پی ٹی آئی کی حکومت نے نہیں بنایا۔ یہ ثابت ہو کررہے گا رانا صاحب کیخلاف کیس حقیقت ہے۔ اس موقع پر ایوان میں مسلم لیگ ن کے رہنماء رانا ثناءاللہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ انسداد دہشتگردی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے 126 لوگوں کو ٹرائل کیا اور کیس میں شہادتیں بھی قلمبند ہورہی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن کیس میں 15 سیاستدان شامل ہیں جن میں سے ایک میں بھی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں کبھی کسی منشیات فروش سے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ اےاین ایف سے پوچھا کیا معاملہ ہے توبتایا گیا کچھ نہیں پتا۔ اوپرسے حکم ہے۔ اس مقدمے میں کوئی تفتیش کوئی انکوائری نہیں ہوئی۔ عدالت سے پتا چلا کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔ کسی بھی پراسیکیوشن میں پہلے تفتیش کا عمل ہے اوربعد میں ٹرائل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریارآفریدی ایوان میں قسم اٹھا کر کہے کہ مجھ پر الزام درست ہے۔ اس سے میرے اور شہریار آفریدی کے درمیان اللہ فیصلہ کردے گا۔

تاریخ اشاعت : منگل 14 جنوری 2020

Share On Whatsapp