ایم کیو ایم اہم اتحادی ہے اور خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لائیں گے. وزیراعظم عمران خان

چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی منظوری‘ قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی گئی

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اہم اتحادی ہے اور خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لائیں گے وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایئر سروسز معاہدے، سابقہ فاٹا اور گلگت بلتستان کے 4 فیصد کوٹہ کی علیحدگی کی منظوری دی گئی. اجلاس میں کابینہ نے لاہور، کراچی، پشاور اور ملتان میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر کی منظوری دی جب کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی کے ایم ڈی کی تعیناتی کی سمری موخر کردی ذرائع کے مطابق اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم کے وزارت چھوڑنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اہم اتحادی ہے، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپس لائیں گے، اتحادیوں کے تمام مطالبات پر پیشرفت ہورہی ہے، حکومتی کمیٹی تمام اتحادیوں سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے.
ادھروزیر اعظم عمران خان نے قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اب 12 ارکان پر مشتمل ہو گی، جس کے چیئرمین وزیر اعظم عمران خان ہوں گے.ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیرِ دفاع پرویز خٹک، وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ اور وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کمیٹی میں شامل ہیں ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ، معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور معاونِ خصوصی نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کمیٹی ڈاکٹر معید یوسف بھی کمیٹی میں شامل ہیں.ذرائع کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہ بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہوں گے، ان کے علاوہ سیکرٹری کابینہ ڈویژن بھی اس کمیٹی کے رکن ہوں گے اجلا س میں وزیراعظم عمران خان نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے سرکاری افسران کے نام عوام کے سامنے ظاہر کرنے کا حکم د یتے ہوئے کہا کہ بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام میں فراڈ کرنے والے سرکاری افسران کے ناموں کی تشہیر کی جائے قبل ازیںپروگرام سے نکالے گئے سرکاری افسران کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تو عمران خان نے معاملے پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے ملوث سرکاری افسران کے نام پبلک کرنے کی ہدایت دے دی وزیراعظم نے کہا کہ غریبوں کا حق لوٹنے والوں کو چھوٹ نہیں دے سکتے، لوٹ مار کرنے والوں کے نام قوم کے سامنے لائے جائیں.
وفاقی کابینہ نے وزارت صحت کی تنظیم نو کی منظوری بھی دی، وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگو لییشن اینڈ کوآرڈینیشن کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا.شعبہ صحت میں اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے، اس حوالے سے وزیرمملکت برائے امور قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے وزارت صحت کی تنظیم نو کی منظوری دے دی ہے. اس حوالے سے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولییشن اینڈ کوآرڈینیشن کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اب اس وزارت کا نام منسٹری آف ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ہوگا ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ مذکورہ وزارت میں ٹیکنیکل اور انتظامی عہدوں میں عدم توازن تھا،80فیصد انتظامی جبکہ 20 فیصد تیکنیکی نوعیت کے عہدے تھے اور 80فیصد افسران اور اسٹاف کا تحقیقی پس منظر بھی نہ تھا.وزیر مملکت کا مزید کہنا ہے کہ منظور تجویز میں تکنیکی عملہ70 جبکہ دیگر 30 فیصد ہیں، وزارت میں تربیت یافتہ اورمطلوبہ قابلیت کے ماہرین کی کمی تھی، اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی ہیلتھ سروس گروپ کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے.اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری بھی دی‘ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر پاکستانی موقف پر کابینہ ارکان کو اعتماد میں لیا کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ای سی ایل نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے.
واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کے بعد مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے لاہور ہائیکورٹ مریم نواز کا پاسپورٹ واپس کرنے اور نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست 15 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر بھی کرچکی ہے.

تاریخ اشاعت : منگل 14 جنوری 2020

Share On Whatsapp