ڈینگی کے تدارک کیلئے بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے‘

وفاقی حکومت نے ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے موثر اقدامات کئے‘قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں ڈینگی پر ایمرجنسی آپریشن سیل قائم کیا گیا‘ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا انٹرنیشنل ڈینگی کانفرنس سے خطاب

لاہور : ڈینگی پر انٹر نیشنل کانفرنس کا انعقاد بہت خوش آئند ہے‘ کانفرنس میں بیرون ممالک کے ماہرین نے حصہ لیاہے‘ ڈینگی کے تدارک کیلئے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کیا جانا چاہیے‘ ڈاکٹر یاسمین راشد اور ان کی ٹیم کو عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘حالیہ ڈینگی مہم میں وفاقی حکومت نے ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے موثر اقدامات کئے ،حکومت قومی سطح پر ڈینگی کے تدارک کیلئے ایکشن پلان بنا رہی ہے‘قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں ڈینگی پر ایمرجنسی آپریشن سیل قائم کیا‘ڈینگی کیس رسپانس کی ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 100 کی جنہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا‘ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے یہاں ڈینگی پر منعقدہ انٹر نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے تدارک اور علاج کیلئے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جا رہی ہے‘‘متعدی اور غیر متعدی امراض کی روک تھام کیلئے حکومت پر عزم ہیں‘عوام کی آگاہی کیلئے وزارت صحت میں ایک ہیلپ لائن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے‘انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کوریج کو یقینی بنانا ہمارا مشن ہے‘پرائمری ہیلتھ سسٹم کو مضبوط بنا رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ جو لوگ علاج کی سکت نہیں رکھتے ان کو ہیلتھ انشورنس پالیسی دے رہے ہیں‘انہوں نے کہاکہ کچھ سالوں پہلے ڈینگی نے پنجاب کو بالخصوص لاہور کو کافی نقصان پہنچایاتب ڈاکٹرز کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا علاج کیسے کرنا ہے ایسے میں ڈاکٹر فیصل مسعود نے اس پر بہت کام کیا‘اس وقت میرے گھر میں بھی دو ڈینگی کے مریض تھے ڈاکٹرز پہلے اینٹی بائیوٹیک سے اس مرض کے علاج کی کوشش کرتے رہے پھر پتہ لگا ایسے مریض کو اینٹی بائیٹکس نہیں دینے‘انہوں نے کہاکہ اب پھر ایک بار ڈینگی نے پنجاب میں سر اٹھایا ہے ،اس کانفرنس کا مقصد بھی ایک دوسرے سے سیکھنا تھاجتنا زیادہ آپس میں رابطہ بہتر ہوگا اتنا ہی ڈینگی کے خلاف جنگ آسان ہو گی‘میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس حوالے سے جو بھی مدد کر سکا کروں گا‘انہوں نے کہاکہ پچھلی دفعہ جب ڈینگی نے حملہ کیا ہمیں محسوس ہوا کہ ہم نے اس سے جنگ شروع کرنے میں دیری کی لیکن اب ایک جامع پالیسی مرتب کی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور انکی ٹیم کو اس عالمی کانفرنس منعقد کروانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں‘کانفرنس میں بہت سے بین الاقوامی ماہر ین نے شمولیت کی کیونکہ عالمی طور پر ایک سوچ پائی جاتی ہے کہ ایسا ہیلتھ سسٹم بننا چاہیے جس سے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ کوئی شخص بیمار ہوتو اس ہیلتھ سسٹم سے فائدہ اٹھا سکے‘انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آگنائزیشن نے بھی خود کو دوبارہ سے آرگنائز کیا‘ڈبلیو ایچ او میں ایک سیگمبٹ ہے جو یونیورسل بیماریوں پر کام کر رہا ہے‘انہوں نے کہاکہ ڈینگی کی بات کریں تو یہ ایک مچھر سے پھیلتا ہے اورجب تک ہم ویکٹر باؤنڈ بیماریوں پر کام شروع نہیں کریں گے ہم ان سے لڑ نہیں سکیں گے‘آخری مرتبہ ڈینگی کے سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے نوے فیصد کراچی میں تھے‘ ہمیں سوچنا پڑے گا کہ کیا ہمارے سرویلنس سسٹم ٹھیک کام کر رہے ہیں کیونکہ سرویلنس سسٹم بیماریوں سے لڑنے کے حوالے سے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ،جب تک کسی بیماری کے بارے میں سرویلنس سسٹم کی رپورٹس پر غور نہیں کریں گے اس کے خلاف لڑ نہیں سکتے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 10 جنوری 2020

Share On Whatsapp