پشاور ہائیکورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے کی تفصیلات سامنے آ گئیں

دھماکے رکشے میں سلنڈر پھٹنے سے ہوا،واقعے میں 7 افرار زخمی ہوئے

پشاور : پشاور ہائیکورٹ کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اب سے کچھ دیر قبل پشاور ہائیکورٹ کی پارکنگ میں دھماکہ ہوا تھا،اس حوالے سے اب پولیس کا بیان بھی سامنے آ گیا ہے۔ایس ایس پی آپریشنز پشاور ظہور آفریدی نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال دھماکے کی نوعیت کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ رکشے میں سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے، جس کے نتیجے میں رکشہ بھی تباہ ہو گیا۔دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔کئی گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔پولیس اور تفتیشی حکام جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہے ہیں جس سے دھماکے کی نوعیت معلوم ہو سکے گی۔پولیس، ریسکیو اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور ہائیکورٹ جانے والے تمام راستے مسدود کر دئیے گئے ہیں۔
دھماکے کے نیتجے میں 7 افراد بھی زخمی ہوئے جنہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور انہیں ابتدائی طبی امداد دی جا رہے۔زخمی ہونے والوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہے جو دھماکے کے وقت رکشے کے قریب موجود تھا۔ذرائع کے مطابق پولیس کی بھاری نفری بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے۔
خیال رہے کہ آج پشاور ہائیکورٹ کے باہر دھماکہ ہوا تھا۔ابھی اس بارے میں حتمی طور پر نہیں بتایا گیا کہ دھماکہ سلنڈر پھٹنے سے ہوا۔تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ دھماکہ سلنڈر پھٹنے کا واقعہ ہی لگتا ہے۔پولیس نے اس حوالے سے تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا ہے۔مکمل تحقیقات کے بعد ہی دھماکے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں گی۔

تاریخ اشاعت : پیر 16 دسمبر 2019

Share On Whatsapp