دعا منگی کو اس کے لباس کی وجہ سے اغوا کیا گیا

اغوا کاروں نے لباس دیکھ کر اندازہ لگایا کہ میں ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہوں: پولیس کو دیا گیا بیان

کراچی : دعا منگی کو اس کے لباس کی وجہ سے اغوا کیا گیا، پولیس کو دیے بیان میں دعا نے بتایا ہے کہ اغوا کاروں نے لباس دیکھ کر اندازہ لگایا کہ میں ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہوں۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی نے پولیس ٹیم کو ابتدائی بیان ریکارڈ کرادیا ہے۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والی دعا منگی نے پولیس ٹیم کو ابتدائی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ حارث کے ساتھ چائے پی کر ٹہلنے نکلی تھی کہ اچانک 2 افراد نے مجھے پکڑ کر گاڑی میں ڈال کر اغوا کرلیا۔
دعا منگی کا کہنا ہے کہ شور ہونے لگا پھر اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، ملزمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور تین بار دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا گیا۔ دعا کا بتانا ہے کہ اغوا کاروں نے اس کا لباس دیکھ کر یہ اندازہ لگایا کہ یہ لڑکی کسی امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ تفتیشی ٹیم کو دئیے گئے بیان میں دعا منگی کا کہنا تھا کہ میں نے کسی شخص کا چہرہ نہیں دیکھا بس کھانا کھاتے وقت میری آنکھوں سے پٹی ہٹادی جاتی تھی۔
جب بھی کھانا دیا جاتا تھا تو کوئی دوسرا شخص بول رہا ہوتا تھا جبکہ میرے ہاتھ پاؤں باندھ کر کانوں میں ایئرفون لگادئیے جاتے تھے تاکہ کوئی بات نہ سن سکوں۔ واضح رہے کہ دعا منگی کو 30 نومبر کو کراچی کے محفوظ ترین علاقے ڈیفنس سے نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا۔ جبکہ دعا کے ساتھ واردات کے وقت موجود دوست حارث کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس دعا کا سراغ لگانے میں مکمل ناکام رہی تھی اور پھر اہل خانہ کی جانب سے تاوان کی ادائیگی کے بعد دعا گھر واپس آئی۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دعا منگی اغوا کیس کے سلسلے میں 2 مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 11 دسمبر 2019

Share On Whatsapp