بازیابی کے بعد دعا منگی کا ابتدائی بیان سامنے آگیا

اغواکاروں نے مجھ پر تشدد نہیں کیا،آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہوتی تھی : پولیس کو بیان

کراچی : : بازیابی کے بعد دعا منگی کا ابتدائی بیان سامنے آگیا ہے۔دعا منگی کا کہنا ہے کہ اغواکاروں نے مجھ پر تششد نہیں کیاتھا۔تفصیلات کے مطابق بازیابی کے بعد دعا منگی کا ابتدائی بیان سامنے آ گیا ہے۔ تفتیشی ٹیم کو بیان دیتے ہوئے دعا منگی کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے ایک ہاتھ اور ایک پاوں باندھ کرمجھے کمرے میں بٹھائے رکھا تھا، آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہوتی تھی اور پٹی صرف اس وقت کھولی جاتی تھی جب مجھے کھانا دیا جاتا تھا۔
کھانا مجھے کمرے میں ہی دیا جاتا تھا ۔کھانا کھانے کے لیے جب پٹی کھولی جاتی تھی تو سامنے ایک ٹی وی پڑا ہوا ہوتا تھا۔ اغوا کار شناخت سے بچنے کے لیے پیچھے کھڑا ہوتا تھا۔دعا کا کہنا تھا کہ اغوا کاروں نے مجھ پر تششد د نہیں کیا تھا۔یار رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفینس سے قانون کی طالب علم دعا منگی کے اغوا کے سلسلے میں پولیس نے ان کے گروپ کے لڑکے لڑکیوں سمیت 22 افراد کے بیانات ریکارڈ کر لیے تھے۔
تفتیش کے دوران مغوی کی بہن کی بھی موقع پر موجودگی کا انکشاف ہواتھا۔پولیس کے مطابق ملنے والی اہم معلومات سے تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ پولیس کی تفتیشی ٹیم نے بڑا بخاری میں واقع ریسٹورنٹ "ماسٹر چائی" کو اس اہم کیس کے لیے مرکز تفتیش بنا لیا تھا۔پولیس نے ماسٹر چائے کے تمام ویٹرز ،سیکورٹی گارڈ اور دیگر چوکیداروں کے بیانات بھی ریکارڈ کر لیے تھے۔
اس سلسلے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیاتھا کہ واردات کے وقت دعا کی بڑی بہن بھی اسی ریسٹورنٹ پر اپنے دوست کے ساتھ موجود تھی۔ بہن کے مطابق دعا اور حارث بات چیت کرنے کے لیے اٹھ کر ٹہلنے لگے کہ گولی چلنے کی آواز آئی۔ بیاناتات سے یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ مغوی دعا منگی کئی ماہ سے وقفے وقفے دوستوں کے ساتھ ماسٹر چائے پر آکر بیٹھتی تھی تاہم گذشتہ چار پانچ دن سے وہ مسلسل طویل دورانیہ کے لیے بیٹھک کر رہی تھی۔جب کہ دعا منگی کے اغوا میں ان کے سابق منگیتر کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا جا رہا تھا۔

تاریخ اشاعت : منگل 10 دسمبر 2019

Share On Whatsapp