گلوکار وفنکار منصور ملنگی کی چوتھی برسی کل منائی جائے گی

فیصل آباد : ملک کے پنجابی اور اردو زبان کے نامور گلوکار و فنکارصدارتی ایوارڈ و لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے حامل سرائیکی گائیک منصورعلی ملنگی جو 11دسمبر 2015 ء کو اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث اپنے مالک حقیقی سے جاملے تھے کی چوتھی برسی آج 11 دسمبر بروز بدھ کو عقیدت و احترام سے منائی جائیگی۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں مرحوم کے عزیز و اقارب اور پرستاروں کی جانب سے خصوصی تعزیتی تقریبات کا انعقاد کیا جائیگا۔
کدن ولسوسوہنا سانولا وطن ساڈے غریباں دے، میرے دل داجانی، کیہڑی غلطی ہوئی اے ظالم، کی حال سناواں دل دا، اک پھل موتیے دا مارکے جگاسوہنیے،بے درد ڈھولا انج نئیں کریندا، مینوں تیرے جیا سوہنا کوئی دسدا ناں،کالا تل ماہی دا، جلدی ناں کر،اج کل اکھ پھڑکدی اے،اللہ بادشاہ ہو، اساں بے قدراں نال لائیاںاکھیاں، گزرگیا دن سارا ، محبت روگ ہے دل داسمیت ہزاروں پنجابی ، سرائیکی ، اردو غزلیں ، نظمیں، گیت ، ماہیے ، دوہڑے، ٹپے گانے والے ملک کے ممتاز گلوکار منصورعلی ملنگی 1947ء میں گڑھ مہاراجہ نزد دربار حضرت سخی سلطان باہوؒ تحصیل احمد پور سیال ضلع جھنگ میںمقامی زمیندار پٹھان علی کے گھر پیداہوئے۔
منصورعلی 2بھائیوں خادم حسین اور غلام حسین کے بعد تیسرے نمبر پرتھے جبکہ ان کی ایک ہمشیرہ بھی تھی۔ مرحوم نے آبائی تعلیم اپنے گائوں میں حاصل کی ۔ انہیں بچپن سے ہی گائیکی کا زبردست شوق تھا جس کے باعث و ہ اکثر ضلع جھنگ کے مختلف مقامات پر منعقد ہونے والے عرس ومیلوں کی تقریبات سمیت دیگر پروگرامات میں گایاکرتے تھے۔ مذکورہ شوق کو دیکھتے ہوئے ان کے والد پٹھان علی نے انہیں باقاعدہ طور پر ملک کے نامور موسیقار جی اے چشتی کی شاگردی میں دے دیا جہاںانہوںنے باقاعدہ گائیکی کی تعلیم حاصل کی ۔
منصور ملنگی نے نہ صرف پاکستان کے کونے کونے میں اپنی فنکاری و گلوکاری کی دھاک بٹھائی بلکہ دنیا بھر کے ممالک بشمول امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ ، جاپان ، دوبئی ،بھارت ،سعودی عرب اور دیگر کئی یورپی ممالک میں بھی پرفارم کیا۔ مرحوم کو صدارتی ایوارڈ ، لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سمیت درجنوں ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ مرحوم نے پسماندگان میں 3بیوگان ، 11 بیٹے ، 9 بیٹیاں اور سینکڑوں رشتہ داروں سمیت لاکھوں پرستار سوگوار چھوڑے ۔
مرحوم کے 500سے زیادہ آڈیو و ویڈیو البم مارکیٹ میں موجود ہیں جو تمام عمر انکے پرستاروں ، سننے اور چاہنے والوں کو مسحور کرنے سمیت انکی یاد دلاتے رہیں گے۔ منصور ملنگی کی وفات سے سرائیکی و پنجابی لوک گلوکاری کے میدان میں بہت بڑا خلاء پیداہو گیاہے جو صدیو ں پر نہ ہوسکے گا۔

تاریخ اشاعت : منگل 10 دسمبر 2019

Share On Whatsapp