ن لیگ میں بڑی بغاوت کا خدشہ، رہنما پارٹی چھوڑنے کا سوچنے لگے

اگر نواز شریف مقررہ مدت میں ملک واپس نہ آئے اور مریم نواز بھی خاموش رہیں تو ن لیگ سے کئی رہنما دوسری جماعتوں میں چلے جائیں گے۔ جیل میں قید لیگی رہنماؤں نے نواز شریف کو پیغام پہنچا دیا

لاہور : معروف صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ کیا نواز شریف لندن سے واپس آئیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش سب کر رہے ہیں۔رانا عظیم نے کہا کہ مسلم لیگ کا تھنک ٹینگ جس میں وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے آمریت کے دور میں نواز شریف کا ساتھ دیا،انہوں نے جلا وطنی کے دور میں بھی نواز شریف کا ساتھ دیا۔ان میں سے دو ساتھی اب جیل میں موجود ہیں۔
ن لیگ کے ان رہنماؤں نے ایک قریبی ساتھی کے ذریعے سے نواز شریف کو پیغام پہنچایا ہے کہ میاں صاحب اگر آپ عدالت کی طرف سے مقرر مدت میں واپس نہ آئے تو پاکستان میں ن لیگ کا زوال شروع ہو جائے گا۔ہمارے کئی ارکان اسمبلی بھی ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے۔اور اگر آپ پاکستان نہیں آتے تو مریم نواز کو ہدایت کی جائے کہ وہ آپ کے بیانیے کو لے کر آگے چلیں،دوسری صورت میں اگلے انتخابات سے قبل ہی ن لیگ کو بہت نقصان ہوگا۔
جب کہ یہی پیغام مریم نواز کو بھی پہنچایا جا رہا ہے کہ آپ لوگوں میں باہر نکلیں،لوگوں میں تاثر جا رہا ہے کہ نواز شریف کسی ڈیل کے تحت باہر گئے ہیں۔رانا عظیم نے کہا کہ مریم نواز بھی خاموش رہیں تو پھر ن لیگ کے کئی لوگ کسی اور جماعت میں شمولیت کے لیے پر تولنے لگیں گے لیکن اگر مریم نواز خاموش نہیں رہتی تو پھر ن لیگ کا بیانیہ چلے گا۔دوسری صورت میں مسلم لیگ ن کا مستقبل تاریک ہے۔
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔ہ نواز شریف کو عدالت کی جانب سے ملک سے باہر علاج کروانے کے لیے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی اور وہ اس وقت لندن میں مقیم اپناعلاج کروا رہے ہیں۔تاہم چند شرائط تھیں جو کہ ان پر لاگو ہونا تھیں۔اس کے بعد یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ مریم نواز بھی چند بیرون ملک روانہ ہو جائینگی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 5 دسمبر 2019

Share On Whatsapp