متحدہ عرب امارات میں قومی دِن کا حد سے زیادہ جشن منانے والوں کی شامت آ گئی

فجیرہ میں گاڑیوں کے کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر 47 منچلوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئیں، جرمانے بھی کیے گئے ہیں

فجیرہ : متحدہ عرب امارات میں 48 ویں یومِ وطنی کا جشن اور تقریبات کئی روز تک منائی گئیں۔تاہم اس موقع پر نوجوانوں کی جانب سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔ اماراتی ریاست فجیرہ میں پولیس نے سڑکوں پر گاڑیوں کے کرتب دکھانے والے نوجوانوں کے جشن کے رنگ میں بھنگ ڈال دیا اور کئی نوجوانوں کو سڑک پر خطرناک کرتب، ڈرِفٹنگ اور دیگر خلاف ورزیوں پر اُن کی گاڑیاں ضبط کر لیں ، اس کے علاوہ مختلف رقوم کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
فجیرہ پولیس کے ٹریفک اینڈ پٹرولز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر، بریگیڈیر علی راشد ال یماہی نے بتایا کہ ٹریفک خلاف ورزی اور گاڑیوں کے خطرناک کرتب دکھانے پر 47 نوجوانوں کی گاڑیاں ضبط کر لی گئی ہیں۔ جبکہ ہر ڈرائیور پر اس طرح کی خلاف ورزیوں پر 2 ہزار درہم کا جرمانہ اور بلیک پوائنٹس کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔ ضبط کی گئی گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے ایک مخصوص احاطے میں خلاف ورزی کی نوعیت کے حساب سے خاص مُدت کے لیے بند رکھا جائے گا۔
بریگیڈیر ال یماہی نے بتایا کہ جو گاڑیاں ضبط کی گئیں، ان میں سے کچھ کے انجن اور باڈی میں بہت زیادہ تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اور کئی نوجوانوں نے اپنی گاڑی کو مقرر کردہ حد سے زیادہ سجا بنا رکھا تھا۔ حالانکہ یومِ وطنی کی تقریبات سے قبل ہی پولیس کی جانب سے ٹریفک ضابطہ اخلاق سے متعلق اہم ہدایات جاری کر دی گئی تھیں۔ مگر کئی نوجوانوں نے ان پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث وہ مصیبت میں پھنس گئے اور اُن کی گاڑیاں پندرہ دِن، 20 دِن، 30دِن یا 60 دِن کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
کئی گاڑیوں کے انجن میں ایسی تبدیلی کی گئی تھی جس کی بناء پر اُن سے بہت زیادہ شور پیدا ہو رہا تھا، جس کے باعث لوگوں کو بہت زیادہ ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ نوجوان بغیر لائسنس کے گاڑی چلاتے پکڑے گئے۔ جبکہ نوجوانوں کی ایک بڑی گنتی ایسی بھی تھی جو سڑکوں پر تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑی چلا کر دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہی تھی۔
یومِ وطنی کے موقع پر عوام اور ڈرائیورز کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کی خاطر فجیرہ پولیس نے سڑکوں پر ٹریفک پٹرولنگ میں معمول سے کہیں زیادہ اضافہ کر رکھا تھا۔ کئی ڈرائیورز دُوسروں پر فوم کا سپرے کرتے بھی پائے گئے، جبکہ کئی گاڑیوں میں بیٹھے ڈرائیورز اور مسافروں نے تیز رفتاری کے دوران گاڑیوں کی کھڑکیوں اور سن رُوف سے اپنے سر باہر نکال رکھے تھی جو اُن کی زندگیوں کے لیے ایک خطرناک بات تھی۔
انہوں نے بتایا کہ یومِ وطنی کے جشن کے دِنوں میں صرف چند معمولی نوعیت کے حادثات پیش آئے جن کے نتیجے میں دو افراد کو درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔ بریگیڈیر ال یماہی نے تمام ڈرائیورز سے کہا کہ وہ 5 دسمبر سے پہلے پہلے اپنی گاڑیوں پر کی گئی سجاوٹ ہٹا دیں، ورنہ اس تاریخ کے بعد ڈرائیورز پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 5 دسمبر 2019

Share On Whatsapp