10-Year-Old Boy Lives By Himself, Farming And Foraging, After Losing Entire Family

پورے خاندان کو کھونے کے بعد 10 سالہ لڑکا کھیتی باڑی کر کے زندگی گزار رہا ہے


Warning: call_user_func_array() expects parameter 1 to be a valid callback, function 'show_embed_live_video' not found or invalid function name in /home/urduquick/public_html/functions.php on line 87

ویتنام کے دیہاتی علاقے میں 10 سالہ لڑکے نے اپنے سارے خاندان کو کھونے کے بعد خود کو اپنانے والوں کی تمام پیش کشیں مسترد کر دی ہیں۔  اپنی زمین پر کام کرنے والا یہ لڑکا تنہا زندگی گزار رہا ہے ۔ اس کے بارے میں جان کر دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں کے دل پگھل گئے ہیں۔
دس سال کی عمر میں بچوں کو سکول جانے اور اپنے بچپن سے لطف اندوز ہونے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا لیکن ویتنام کے دیہاتی علاقے سے تعلق رکھنے والے ڈانگ وان کھوین کے دن کا اکثر حصہ اپنے گھر کے پاس کھیتوں میں سبزیاں اگانے اور اپنے لیے خوراک تلاش کرنے میں بسر ہو جاتا ہے۔

ڈانگ وان کی زندگی کبھی بھی آسان نہیں تھی۔ بہت کم عمر میں اُن کی والدہ وفات پا گئی۔ اُن کے والد تعمیرات کے شعبے سے وابستہ تھے اور ملازمت کے لیے گھر سے دور رہتے تھے۔ ایسے میں ڈانگ وان کو اپنی دادی کے پاس رہنا پڑا۔تاہم حالات اس وقت بدتر ہو گئے جب ایک حادثے میں اُن کے والد کی وفات ہو گئی اور اُن کی دادی نے دوسرے گاؤں میں شادی کر لی۔ایسے میں ڈانگ وان کا خیال رکھنے کے لیے کوئی نہ رہا۔

ڈانگ وان  کے والد اُن کے کھانے، کپڑوں اور دوسری چیزوں کے لیے رقم بھیجتے تھے۔ والد کی وفات اور دادی کی شادی کے بعد اُنہیں ہر کام خود کرنا پڑا۔ویتنامی میڈیا میں چلنے والی ایک ویڈیو میں ڈانگ وان کو کھیتوں میں سبزیاں اگاتے  ہیں اور پکانے کے لیے بانس کی ٹہنیاں اکھٹی کرتے دیکھایا گیا ہے۔ڈانگ وان کی راتیں  گھاس پھونس کی چھت والی ایک  لاوارث جھونپڑی میں گزرتی ہیں لیکن وہ نہیں چاہتے کہ کوئی خاندان انہیں اپنائے۔

ڈانگ وان کے والد کی وفات کا سن کر اُن کی استانی نے  چندا جمع کیا تاکہ مرحوم کی میت گاؤں لا کر  تدفین کی جا سکے۔ اس کے بعد انہوں نے مقامی حکام کو ڈانگ وان کے حالات کے بارے میں مطلع کر دیا۔اُن کے دادا دادی یا نانا نانی میں سے کسی نے بھی انہیں ساتھ لے جانے  کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔اُن کے لیے یتیم خانے میں داخلے یا  کسی خاندان کے اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا لیکن انہوں نے اکیلے رہنے کو ترجیح دی۔
اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ اکیلے اپنا خیال رکھ سکتے ہیں ۔
ڈانگ وان کو غذائیت سے بھرپور کھانوں، جیسے چاول وغیرہ ، کے لیے اپنے ہمسایوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے لیکن وہ اپنی اگائی ہوئی سبزیاں  اور بانس کی ٹہنیاں بھی پکا کر کھاتے ہیں۔ڈانگ وان نے اعتراف کیا کہ رات کو اکیلے سونے کے دوران جھونپڑی کی دیواروں سے، ہواچلنے کی وجہ سے آنے والی آوازیں انہیں اچھی نہیں لگتی۔

جب سے ڈانگ وان کی استانی نے اُن کی ویڈیو شیئر کی ہے، بہت سےلوگوں نے انہیں اپنانے کی پیش کش کی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اُن کی مالی امداد کی بھی پیش کش ہے۔ ابھی تک واضح نہیں ہوسکا کہ  ڈانگ وان نے ان  پر کیا جواب دیا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے مشکل حالات میں گزارہ کرنے کے باوجود ڈانگ وان نے آج تک ایک دن بھی سکول سے چھٹی نہیں کی۔ وہ ہر صبح اپنی سائیکل پر سکول جاتے ہیں  اور واپس آ کر اپنے کھیتوں میں کام کرتےہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 29 نومبر 2019

10-Year-Old Boy Lives By Himself, Farming And Foraging, After Losing Entire Family
Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں