نوازشریف کا علاج وہیں سے شروع کیا ہے جہاں پاکستان میں چھوڑا تھا: ڈاکٹر عدنان

طبی ماہرین کی پوری ٹیم نواز شریف کی نگرانی کر رہی ہے، صحت کی بحالی کے عمل میں کچھ ماہ بھی لگ سکتے ہیں: ذاتی معالج

لندن : لندن مین زیرِ علاج سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان نے بتایا ہے کہ نوازشریف کا علاج وہیں سے شروع کیا ہے جہاں پاکستان میں چھوڑا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ طبی ماہرین کی پوری ٹیم نواز شریف کی نگرانی کر رہی ہے جبکہ انکی صحت کی بحالی کے عمل میں کچھ ماہ بھی لگ سکتے ہیں۔ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس بڑھنے یا گھٹنے سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ بہت سی معلومات پرائیویٹ ہیں جو بتائی نہیں جا سکتیں، اگلے ہفتے نواز شریف کا پی ای ٹی سکین ہو گا۔
ڈاکٹر عدنان نے مزید بتایا ہے کل اور آنے والے دنوں میں ڈاکٹروں سے مزید اپائنٹمنٹس طے کی گئی ہیں۔ سٹیرائیڈز کے سائیڈ ایفیکٹس بہت زیادہ ہیں۔ ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ ہمیں سٹیرائیڈز کو کم کر کہ مکمل روک دینا چاہیے۔ ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ نواز شریف کے لیے گھر کے اندر میڈیکل کی تمام سہولیات مہیا کی گئی ہیں، نوازشریف کی طبیعت ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی، بحالی میں کچھ وقت لگے گا، راتوں رات تو صحت ٹھیک نہیں ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیٹے علی ڈار نے نوازشریف کے علاج کے لیے مریم نواز کی لندن میں موجودگی ضروری قرار دے دیا۔علی ڈار کا کہنا ہے کہ مریم نواز کو نواز شریف کی تمام میڈیکل ہسٹری معلوم ہے۔نواز شریف کے بیٹے 20 سال سے ان کے ساتھ نہیں رہے۔علی ڈار نے کہا کہ مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے علاج میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
علی ڈار نے مطالبہ کیا ہے کہ مریم نواز کو لندن آنے کی اجازت دینی چاہئیے۔جب کہ کئی صحافی بھی مریم نواز کی بیرون ملک جانے کی خبر دے چکے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ وہ مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے، جس پر مریم نواز کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی باہر چلی جائیں گی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 21 نومبر 2019

Share On Whatsapp