لوگ دریائے سندھ سے سونا نکالنے لگے

صبح سویرے شدید ٹھنڈ میں سونا تلاش کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے

اسکردو ۔ :   محنت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔یقین مانیں لوگ محنت کر کے دریا سے سونا نکالنے لگ گئے ہیں جبکہ لوگوں کو آج بے روزگاری اور مہنگائی نے کچل کر رکھا ہوا ہے۔مگر اللہ کایہ بھی اپنے بندوں سے وعدہ ہے کہ وہ محنت کرنے والے کا دوست ہے لہٰذا وہ انہیں کیسی کیسی جگہ سے رزق دیتا ہے۔ ہم اکثر سنتے ہیں کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وسائل اور قیمتی خزانوں سے مالا مال فرمایا ہے۔
لیکن یقین اس وقت ہوا جب وادی حسن گلگت بلتستان کے ایک شہری حسین سے متعلق سنا جو روزانہ کی بنیاد پر بہتے دریا سے سونا جمع کرتا ہے۔بہتے دریا سے سونا نکالنا انتہائی کٹھن اور محنت طلب کام ہے لیکن بہتے دریا کے کنارے آباد یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ سونا کہاں موجود ہے کیونکہ ان کا روزگار یہی ہے۔دریا کنارے آباد یہ افراد پورا سال سردی کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ موسم سرما میں پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے اور نومبر آتے ہی ان کی چاندی ہوجاتی ہے اور دریا سونا اگلنے لگتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے قبیلے کے ایک فرد حسین نے بتایا کہ ہم صبح سویرے سونا جمع کرنے نکل جاتے ہیں اور 9، 10 بجے تک واپس آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانی سے سونا نکالنا ایک مشکل کام ہے لیکن یہی ہمارا فن ہے، ہم جگہ کا تعین کرکے روایتی اوزاروں سے سونا نکالتے ہیں اور ٹھیکیداروں کو فروخت کرتے ہیں جو اسے مارکیٹ لے جاتے ہیں۔
سونا نکالنے والے ان افراد کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ٹھیکیدار یہ سونا آگے کس قیمت پر فروخت کرتا ہے اور انھیں اگر یہ معلوم ہو بھی جائے کہ انہیں مارکیٹ میں سونے کی قیمت سے کم رقم دی جاتی ہے تب بھی یہ ٹھیکیداروں کو ہی خوشی خوشی سونا فروخت کرتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق انہیں بس ایک شکوہ ہے وہ یہ کہ یہ سارا کام پرانے اور روایتی اوزاروں سے کرتے ہیں جبکہ چین سے آنے والے اپنے ساتھ جدید مشینیں لاتے ہیں اور چند منٹوں میں بنا کسی محنت کے سونا نکال کر لے جاتے ہیں۔اس لیے حکومت انہیں بھی جدید اوزار مہیا کرے تاکہ وہ بھی سونا نکالنے کے لیے آسانی محسوس کریں اور زیادہ سے زیادہ سونا تلاش کرسکیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 20 نومبر 2019

Share On Whatsapp