کرپشن کے خاتمہ کے لیے سنیئر فسران کو سخت ترین سزائیں دے دی گئیں

سعودی عرب نے اہم سرکاری افسران کو سالوں پر محیط سزائیں سنائیں

ریاض ۔ :   کرپشن ایسا ناسور ہے جو دنیا کے تقریباً ہر دوسرے ملک کی جڑوں میں بیٹھ کر وہاں کی معیشت کو کمزور کرتے ہوئے طبقاتی نظام کو وسعت دے رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اکثر ممالک کرپشن اور اقربا پروری سے آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہیں تاکہ یہ ناسور ان کے ملک سے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔ابھی حال ہی میں سعودی عرب نے بھی کرپشن سے متعلق کچھ سخت فیصلے کیے ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت نے کرپشن، رشوت ستانی اور عہدے کا ناجائز استعمال کرنے والے 18 سرکاری افسران کو 55 سال قید کی سزا سنادی۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف عدالتوں میں 700 سے زائد ثبوت و شواہد پیش کیے گئے‘۔اعلامیے کے مطابق حکومت نے رشوت ستانی، عہدے کے ناجائز استعمال اور کرپشن کرنے والے سرکاری افسران کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
پریس ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کی جانب سے سزایافتہ قرار دیے جانے والے سرکاری افسران میں ایک شخص مملکت کے اہم ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہے جس نے اپنے منصب کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے تاجر سے تحائف بطور رشوت اور ذاتی مفادات حاصل کیے۔پراسیکیوشن اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ’عدالت میں ثبوت پیش کیا گیا کہ سرکاری عہدیدار نے تاجر سے سہولیات حاصل کر کے جعلی کاغذات بھی بنا کر دیے، جج نے جرم ثابت ہونے پر اعلیٰ عہدیدار کو 16 سال قیل اور جرمانے کی سزا سنائی‘۔
عدالت نے سرکاری عہدیدار کے ساتھ غیر قانونی طریقے سے لین دین کرنے والے تاجر کو 16 سال قید کی سزا سنائی۔اگر کرپشن کے خلاف اسی قسم کے فیصلے ارو قانون سازی پاکستان میں بھی ہو جائے تو یہاں بھی عوام کا بھلا ہو جائے اور کوئی بھی سرکاری افسر ناجائز کام کرنے اور رشوت لینے سے پہلے کئی بار سوچے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 20 نومبر 2019

Share On Whatsapp