ملائیشیا نے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کا حتمی فیصلہ کر لیا

پاکستان کا دوست اسلامی ملک 36 مختلف جنگی طیارے خریدنے کا خواہاں ہے، نئے فلیٹ میں پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ بھی شامل ہوگا

لاہور : ملائیشیا نے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کا حتمی فیصلہ کر لیا، پاکستان کا دوست اسلامی ملک 36 مختلف جنگی طیارے خریدنے کا خواہاں ہے، نئے فلیٹ میں پاکستان اور چین کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کردہ جنگی طیارہ بھی شامل ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے دوست اسلامی ملک ملائیشیا نے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کی خریداری کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
ملائیشیا اپنی فضائیہ کیلئے جنگی طیاروں پر مشتمل ایک نیا فلیٹ تشکیل دینا چاہتا ہے۔ اس فلیٹ میں مختلف جنگی طیارے شامل کیے جائیں گے۔ ملائیشیا نے جنگی طیاروں ہر مشتمل فلیٹ کیلئے پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے کا بھی انتخاب کیا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے دورہ پاکستان کے دوران جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کیلئے پسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
اب ملائیشیا نے پاکستان کے اس جنگی طیارے کو خریدنے کا باقاعدہ فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ملائیشیا پاکستان سے کتنے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدے گا۔ دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے چین کے اشتراک سے اپنی دفاعی صنعت کو مزید فروغ دینے کیلئے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ پاکستان نے چین کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کے 4 خریدار تلاش کر لیے ہیں۔
بھارت کے دوست اور پڑوسی ملک میانمار نے پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ آذربائیجان، ملائیشیا اور نائیجیریا بھی پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیارے خریدیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ نائیجیریا اور میانمار پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ جبکہ ملائیشیا، آذربائیجان، مصر اور دیگر کچھ ممالک بھی جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کیلئے جلد معاہدہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔
جبکہ پاکستان بھی مزید کئی ممالک کو جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری کیلئے راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی مانگ میں اس وقت سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جب پاکستان نے بھارت کے جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی فروخت سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ جبکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ بھی ملے گا۔

تاریخ اشاعت : منگل 19 نومبر 2019

Share On Whatsapp