سعودی عرب میں غیر مُلکیوں کو اپنا کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

وزارت تجارت و سرمایہ کاری کی جانب سے غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے نئی تجاویز سامنے آ گئیں

ریاض : سعودی عرب میں ہزاروں غیر مُلکی مقامی باشندوں کی مدد سے اُن کے نام سے غیر قانونی کاروبار کر رہے ہیں۔ جس کے سدِباب کے لیے حکومت کی جانب سے نگرانی اور چھاپوں کا عمل بڑھا دیا گیا ہے جبکہ اطلاع دینے والوں کو بھی انعام میں معقول رقم دی جاتی ہے۔ اسکے باوجود چھُپ چھُپا کر ہزاروں غیر مُلکی سعودیوں کی آڑ میں کاروبار کر رہے ہیں۔ وزارت تجارت کی جانب سے اس غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی کے لیے نئی تجاویز سامنے آئی ہیں۔
سعودی وزارت تجارت کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ غیر مُلکیوں کو تجارتی اداروں کا مالک بننے کے لیے مشروط سہولت فراہم کرنے پر غورو خوض جاری ہے اور اس حوالے سے لائحہ عمل بھی زیر غور ہے۔ وزارت تجارت کے مطابق غیر مُلکیوں کو سعودیوں کے نام سے کاروبار کرنے کی بجائے اپنے نام سے کاروبار کرنے کی اجازت دینے کے لیے تین اقدامات لیے جائیں گے۔
سب سے پہلے تو اس معاملے میں قانون سازی ہو گی۔ دوسرے مرحلے میں تمام تجارتی اداروں کو بینکوں سے منسلک کیا جائے گا اور تیسرے مرحلے میں جا کر غیر مُلکیوں کو تجارتی اداروں کا مالک بننے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ وزارت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سعودی مملکت میں مقامی باشندوں کے نام سے غیر مُلکیوں کے غیر قانونی کاروبار کے اسباب کو اس بار یکساں انداز کی بجائے مختلف انداز سے پرکھا جا رہا ہے۔
تبدیل شدہ حکمت عملی کے تحت ہر ادارے میں سجل تجاری کی خلاف ورزی کے اسباب کا الگ الگ سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ وزارت تجارت نے نجی اداروں اور کمپنیوں پر کچھ عرصہ قبل یہ پابندی عائد کی تھی کہ وہ اپنا تمام تر لین دین بینکوں کے ذریعے کریں گے تاکہ نجی اداروں کی مالیاتی سرگرمیوں اور ان کے اصل مالکان کے بارے میں معلومات سامنے آ سکیں اور غیر ملکیوں کے کاروبار کے باعث سعودی مملکت کا پیسہ غیر قانونی طریقے سے باہر بھیجنے کے رحجان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

تاریخ اشاعت : منگل 19 نومبر 2019

Share On Whatsapp