سعودی عرب میں پاکستانی کارکنوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی

پروفیشن ٹیسٹ میں فیل ہونے والے کارکن کسی سرکاری پراجیکٹ میں کام نہیں کر سکیں گے

ریاض : سعودی عرب کی حکومت نے مملکت میں مقیم لاکھوں تارکین وطن کا پروفیشن ٹیسٹ لینے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ہُنر مندوں کی اپنے مخصوص شعبے میں مہارت اور اہلیت کا اندازہ لگانا ہے۔ اس اعلان کے بعد مملکت میں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکنان بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ پروفیشن ٹیسٹ میں فیل ہونے والے غیر مُلکی کارکنان کسی سرکاری پراجیکٹ میں کام نہیں کر سکیں گے۔
پروفیشن ٹیسٹ پروگرام کے ڈائریکٹر نایف العمیر نے بتایا ہے کہ اگر کوئی غیر مُلکی کارکن پروفیشن ٹیسٹ پہلی بار میں کلیئر نہیں کر پاتا تو اسے دو مواقع دیئے جائیں گے۔ تیسری بار بھی فیل ہونے کی صورت میں اُسے مزید کوئی موقع نہیں مِلے گا۔ ایسے کارکنان کسی سرکاری منصوبے میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔ ٹیسٹ میں فیل ہونے والے کارکنان کو فوری طور پر فارغ نہیں کیا جائے گا ۔
ایسے کارکنان کا اقامہ ختم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ورک پرمٹ واپس کیا جائے گابلکہ ان کی آجر کمپنیوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہیں فلاں کارکن کی ضرورت ہے۔ کمپنی کی آمادگی کی صورت میں ان سے باقاعدہ لیٹر لیا جائے گا جس میں کمپنی کی جانب سے یہ خواہش ظاہر کی جائے گی کہ اسے فلاں کارکن کی خدمات درکار ہیں۔پروفیشن ٹیسٹ پروگرام کے ڈائریکٹر کے مطابق فیل ہو جانے والے کارکنان کی مدد کے لیے ضامن کمپنیوں کا سہارا لیا جاسکتا ہے۔
ان سے باقاعدہ لیٹر لیا جائے گا جس میں کمپنی کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہوگا کہ اسے فلاں کارکن کی ضرورت ہے تاہم اس قسم کے کارکن کسی سرکاری منصوبے کا حصہ نہیں بنائے جا سکتے البتہ ان کا اقامہ ختم ہوگا اور نہ ہی ورک پرمٹ واپس لیا جائے گا۔اگر یہ کارکن کسی اور کمپنی میں ٹرانسفر کروانا چاہیں گے تو انہیں پروفیشن ٹیسٹ کلیئر کرنے کے بعد ہی ٹرانسفر کیا جائے گا۔نایف العمیر نے بتایا کہ پروفیشن ٹیسٹ کے معاملے میں اصل امتحان پاکستانی اور بھارتی کارکنوں کا ہو گا۔ کیونکہ ان دونوں ممالک سے سعودی عرب کو 60 فیصد کارکن مل رہے ہیں۔ اس کے بعد فلپائن، مصر، سری لنکا اور انڈونیشیا کا نمبر آتا ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 19 نومبر 2019

Share On Whatsapp