ابو ظہبی میں ایک ڈرائیور نے حدِ رفتار کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دی

عرب نوجوان کو 248کلو میٹرفی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانے پر گرفتار کر لیا گیا، 20 ہزار درہم کا بھاری جرمانہ عائد

ابو ظہبی : متحدہ عرب امارات میں تمام اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے رفتار کی حد مقرر کی گئی ہے، اس حدِ رفتار سے تجاوز کرنے پر سڑ ک پر نصب سپیڈ ریڈار فوری طور پر خلاف ورزی نوٹ کر کے مرکزی کنٹرول روم کو بھیج دیتے ہیں۔ جبکہ سڑکوں پر موجود پولیس اہلکار بھی خلاف ورزی پر جرمانے کا ٹکٹ تھما دیتے ہیں۔ اس قدر سختی کے باوجود ایک عرب نوجوان نے مقررہ حدِ رفتار کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیں۔
ابو ظہبی ٹریفک پولیس کے مطابق ایک عرب نوجوان کوپکڑے جانے کے بعد اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ جس نے 120 کلو میٹر فی گھنٹہ کی حد رفتار پر مخصوص سڑک پر انتہائی تیز رفتار سے گاڑی چلا کر قانون کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔سڑک پر نصب سپیڈ ریڈارز نے نوٹ کیا کہ یہ منچلا نوجوان 248 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اتنی تیز رفتار سے گاڑی چلانا نہ صرف اس کی جان کے لیے بلکہ روڈ پر موجود دیگر ڈرائیورز کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔
پولیس کے مطابق اس نوجوان کی گاڑی کا نمبر ٹریس کرنے کے بعد اس پر 20 ہزار درہم کا ہوش رُبا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ تاہم نوجوان ڈرائیور نے اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کر دی ہے۔ نوجوان نے عدالت کے رُوبرو اعتراف کیا کہ اس نے حدِ رفتار کی خوفناک حد تک خلاف ورزی کی تھی، تاہم یہ سب اُس نے کسی ایمرجنسی کی وجہ سے کیا۔ اُس کا کسی جگہ پر وقت پر پہنچنا انتہائی ضروری تھا۔
نوجوان نے عدالت میں درخواست کی ہے کہ اُس پر عائد 20 ہزار درہم کے بھاری جرمانے کی رقم کو گھٹا دیا جائے۔ عدالت اس نوجوان کی اپیل پر 20 نومبر 2019ء کو فیصلہ سُنائی گئی۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل وزارت داخلہ کی جانب سے ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق مملکت بھر میں پیش آنے والے حادثات میں سے 45 فیصد کی ذمہ داری نوجوان ڈرائیورز پر عائد ہوتی ہے جبکہ ابو ظہبی میں رُونما ہونے والے 63 فیصد حادثات کا سبب نوجوانوں کی تیز رفتار ڈرائیونگ ہے۔
اس رپورٹ سے نوجوانوں کے بطور ڈرائیور رویئے کا پتا چلتا ہے۔ 18 سال سے 24 سال کے ڈرائیورز بہت جوش اور تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کر کے نہ صرف اپنی بلکہ دُوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال لیتے ہیں۔ ایسا صرف امارات میں نہیں بلکہ پُوری دُنیا میں ہوتا ہے۔ دُنیا بھر میں 18 سے 24 سال تک کے ڈرائیورز کی ٹریفک حادثات میں موت کی شرح 25 سال سے زائد عمر کے ڈرائیورز کے مقابلے میں دُگنی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عمر کے نوجوان ڈرائیورز تیز رفتاری، موبائل فون کے استعمال اور اپنے سے آگے جاتی گاڑیوں سے محفوظ فاصلہ نہ رکھنے کے باعث حادثات کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوان ڈرائیورز انڈیکیٹرز کے استعمال اور سیٹ بیلٹ باندھنے کے معاملے میں بھی بے حد لاپرواہ ہوتے ہیں۔

تاریخ اشاعت : منگل 19 نومبر 2019

Share On Whatsapp