برطانوی حکومت اور فوج پر عراق اور افغانستان میں ہوئے جنگی جرائم چھپانے کا الزام

تفتیشی ٹیم کی تحقیقات کی روشنی میں کسی کو سزانہ مل سکی،برطانوی وزارت دفاع نے الزامات مستردکردیئے

لندن : برطانوی حکومت اور فوج پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران برطانوی فوجیوں کے ہاتھوں ہوئیں معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کو چھپایا تھا۔ادھربرطانیہ کی وزارتِ دفاع نے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے نے نے اس تحقیق کے سلسلے میں 11 برطانوی تفتیش کاروں سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ انھیں جنگی جرائم کے مستند ثبوت ملے ۔
یہ نئے شواہد عراق ہسٹورک ایلیگیشن ٹیم (آئی ایچ اے ٹی)اور آپریشن نارتھمور کی جانب سے فراہم کیے گئے ۔آئی ایچ اے ٹی نے برطانوی فوج کی جانب سے عراق پر قبضے کے دوران کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کیں جبکہ آپریشن نارتھمور نے افغانستان میں کیے جانے والے مبینہ جنگی جرائم پر تحقیقات کیں۔برطانوی حکومت نے آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب ایک وکیل فل شائنر کو ان کے عہدے سے ان الزامات کے بعد سبکدوش کیا گیا کہ انھوں نے عراق میں فکسرز کو پیسے دے کر کلائنٹ ڈھونڈے۔
فل شائنر آئی ایچ اے ٹی کے پاس ایک ہزار سے زائد اس نوعیت کے کیس لے کر گئے تھے۔لیکن آپریشن نارتھمور اور آئی ایچ اے ٹی کے سابقہ تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ فل شائنر کے افعال کو جنگی جرائم سے متعلق تحقیق کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔آئی ایچ اے ٹی اور آپریشن نارتھمور کی جانب سے کی گئی تفتیش کے نتیجے میں کسی کو سزا نہیں دی گئی۔آئی ایچ اے ٹی کے ایک تفتیش کار نے پینوراما کو بتایا کہ وزارتِ دفاع کا کسی بھی فوجی کو سزا دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
چاہے اسی فوجی کا کوئی بھی عہدہ کیوں نہ ہو، یا اگر یہ ناگزیر ہو جائے اور وہ اس سے بچ نہ سکیں۔ایک اور سابقہ تفتیش کار کے مطابق جنگی جرائم سے متاثرہ افراد کو بری طرح مایوس کیا گیا۔آئی ایچ اے ٹی کے تفتیش کاروں نے اس کیس کی دو سال تک تفتیش کی اور 80 برطانوی فوجیوں کا انٹرویو کیا جس میں وہ برطانوی فوجی بھی شامل تھا جس نے مبینہ طور پر فائرنگ دیکھی تھی۔

تاریخ اشاعت : اتوار 17 نومبر 2019

Share On Whatsapp