انشاءاللہ، اگلے سال جنوری میں نیا نظام نظر آئے گا، مولانا فضل الرحمان

ہم خیالی پلاؤ لے کر نہیں نکلے، استعفا لینا ہمارا کام ہے، اسمبلی میں بھلے ان کے پاس اکثریت ہو، لیکن اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، پرویز الٰہی ایسی تصویر پیش کررہے کہ مفاہمت ہوئی، لیکن کوئی مفاہمت نہیں ہوئی تردید کرتا ہوں۔ سربراہ جے یوآئی(ف) کی خصوصی گفتگو

لاہور : جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انشاء اللہ ، اگلے سال جنوری میں نیانظام نظر آئے گا، ہم خیالی پلاؤ لے کر نہیں نکلے، استعفا لینا ہمارا کام ہے،اسمبلی میں بھلے ان کے پاس اکثریت ہو،لیکن اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، پرویز الٰہی ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مفاہمت ہوئی ،لیکن کوئی مفاہمت نہیں ہوئی تردید کرتا ہوں ۔
انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ متحدہ مجلس عمل اور جمیعت اہلحدیث پاکستان اور اپوزیشن کی جماعتیں ہمارے ساتھ کھڑی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ وہی ہے۔ ہم ایک دھرنے سے بہت سارے مزید دھرنوں میں تبدیل ہوگئے ہیں، ہمارا دھرنا اتنا ہی جائز ہے جتنا پاکستان میں پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بنی گالہ آرام سے نہیں بیٹھا، وہ حواس باختہ ہوچکے ہیں،وہاں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔
ہم نے اسلام آباد میں دوہفتے گزارے ہیں ، ہمارے کارکن پرامن رہے، کارکنان کو ہدایت کہ میت جارہی ہے، ایمبولینس جاری ہے یا برات جارہی ہے تو ان کو جانے دیا جائے، وہاں دھرنوں میں جماعت کے ذمہ دران موجود ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دن کے وقت سڑکیں بلاک اور رات کو کھلی رہیں گی۔ہم لوگوں کے راستے نہیں روک رہے، بلکہ بڑے پتھر کو ہٹانے کیلئے کچھ مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں۔
ہمیں بددعائیں دینے والی ویڈیو سازش کے تحت بنائی گئی، وہ ویڈیو بھی دکھائیں جن میں لوگ کہتے ہم ایک سال تک بھی دھرنے میں بیٹھے رہیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے میں ایسی بداخلاقیاں ہوئیں کہ ہم سو نہیں سکتے تھے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہورہا ہے؟لیکن ہمارے دھرنے نے دنیا میں پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا امیج اچھا بنایا ہے، کہ ہم پرامن لوگ ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم خیالی پلاؤ لے کر نہیں نکلے، استعفا لینا ہمارا کام ہے،اگلا سال جنوری سے نئے نظام کے ساتھ نظر آئے گا ، انشاء اللہ۔اسمبلی میں بھلے ان کے پاس اکثریت ہو، اسمبلی تحلیل ہوجائے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پرویز الٰہی ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں کہ مفاہمت ہوئی ہے۔میں اس کی واضح تردید کرتا ہوں ،کوئی مفاہمت نہیں ہوئی ہے۔چودھری صاحب کو دوٹوک کہا کہ ناجائز حکومت کے خاتمے کے علاوہ کوئی ہدف نہیں ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 17 نومبر 2019

Share On Whatsapp