امریکی کانگریس کی ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت

اقوام متحدہ کی قراردادوں میں کیے گئے وعدے کے مطابق یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا، ہیلی دشینسکی ,

واشنگٹن : امریکی کانگریس کی انسانی حقوق کمیٹی نے بھارت کو ایک مرتبہ باور کروایا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقوق خود ارادایت سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق کانگریس کے رکن ٹام لینٹوز کے انسانی حقوق کمیشن نے 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سماعت کی تھی جس میں کشمیریوں کے استصواب رائے کے حق کی غیر معمولی حمایت کی گونج دہائیوں میں شاید پہلی مرتبہ سنائی دی۔
اوہائیو یونیورسٹی میں مرکز برائے قانون و انصاف کی ڈائریکٹر ہیلی دشینسکی نے اپنے اختتامی کلمات میں یہ مسئلہ اٹھایا اور پینل کو یاد کروایا کہ 70 برس سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیے گئے وعدے کے مطابق استصواب رائے کے ذریعے ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ہیلی دشینسکی کے بیان پر بھارت نڑاد امریکی کالم نگار سنندا وشست برہم ہوگئیں اور انہوں نے کہا کہ رائے شماری کبھی نہیں ہوسکتی کیونکہ نہ تو بھارت نہ پاکستان یہاں تک کہ چین بھی اپنے کنٹرول میں موجود علاقے خالی نہیں کرے گا جو استصواب رائے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو گڈ لک جو چین سے کشمیر خالی کروائے گا، اگر آپ ایسا کرسکتے ہیں، استصواب رائے بہت دور ہے یہ کبھی نہیں ہونے والا۔اس بیان پر کانگریس کے رکن جیمز میک گورن برہم ہوگئے اور کہا کہ حق خود ارادیت بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ سنندا وشست ہم کبھی اس اصول کے حق میں کھڑے پر ہار نہیں مان سکتے جس کے تحت لوگوں کو حق خودارایت کا حق حاصل ہے۔
سنندا وشست نے اصرار کیا کہ کشمیر کا واحد مسئلہ سرحد پار پاکستان سے آنے والی دہشت گردی ہے جس پر کانگریس کی خاتون رکن شیلا جیکس نے کہا کہ کسی پورے ملک سے ان اقدامات کو منسوب کرنا جن سے کوئی اتفاق نہیں کرتا ایک خطرناک رجحان ہے۔جیمز میک گورن نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور اہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو انسانی حقوق کی عظمت چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزامات کو لوگوں کی بنیادی آزادی سلب کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہمیں یہ پتہ لگانا ہے کہ اس بلیم گیم سے کیسے نکلنا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 16 نومبر 2019

Share On Whatsapp