ملک کی تیسری بڑی موٹروے ایم 6 پر کام کا آغاز کر دیا گیا

سکھر سے حیدرآباد تک 292 کلومیٹر طویل شاہراہ کیلئے زمین کی خریداری کا عمل شروع، حکومت نے 1 ارب 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیے

سکھر : ملک کی تیسری بڑی موٹروے ایم 6 پر کام کا آغاز کر دیا گیا، سکھر سے حیدرآباد تک 292 کلومیٹر طویل شاہراہ کیلئے زمین کی خریداری کا عمل شروع، حکومت نے 1 ارب 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تیسری بڑی موٹروے ایم 6 کی تعمیر کیلئے ابتدائی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سکھر سے حیدرآباد تک 292 کلومیٹر طویل ایم 6 موٹروے کیلئے زمین کی خریداری کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
زمین کی خریداری کیلئے حکومت نے 1 ارب 40 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیے ہیں۔ زمین کی خریداری کے بعد شاہراہ کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ ایم 6 موٹروے پشاور سے کراچی تک موٹروے منصوبے کا آخری حصہ ہے۔ سکھر سے حیدرآباد تک کا سیکشن مکمل ہونے کے بعد پشاور بذریعہ موٹروے کراچی سے منسلک ہو جائے گا۔ یوں پشاور سے کراچی تک کا سفر محض چند گھنٹوں کا ہو جائے گا۔
دوسری جانب 5 ماہ سے زائد عرصہ قبل مکمل کیے گئے سکھر ملتان موٹروے ایم فائیو کا تاحال افتتاح نہ ہوسکا تاہم اسے چھوٹی گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔سی پیک کے تحت وفاقی حکومت کے منصوبے سکھر ملتان موٹروے ایم فائیو کو چھوٹی گاڑیوں کیلئے کھول دیا گیا جس سے تقریباً 8 گھنٹے کی مسافت اب سمٹ کر ساڑھے تین گھنٹے کی رہ گئی ہے۔ سکھر سے ملتان جانے کے لیے روہڑی انٹر چینج سے موٹروے پر داخل ہونے کے بعد پہلا انٹر چینچ پنوعاقل پربنایاگیا ہے جس کے بعد گھوٹکی، گڈو، بہادرپور، رحیم یارخان، ظاہرپیر، ترنڈہ پناہ بہاول پور، اچ شریف، جلال پورپیر والا، شجاع آباد انٹرچینجز سے ہوتے ہوئے ملتان میں داخل ہوں گے۔
390 کلومیٹر والے اس موٹروے پر ریسٹ ہاؤسز اور مساجد بھی بنائیں گئی ہیں تاہم سہولیات ابھی نا مکمل ہیں، ساتھ ہی فیولنگ اسٹیشنز نہ ہونیکے باعث مسافروں کو انٹرچینجز سے اتر کر شہر سے فیولنگ کرانی ہوگی اور دوبارہ موٹر وے پر آنا پڑے گا۔ خیال رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اس اہم منصوبے پر کام کا افتتاح سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے 6 مئی 2016 کو کیا تھا۔ ایم 5 موٹروے پاکستان میں تعمیر ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی موٹروے ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 16 نومبر 2019

Share On Whatsapp