سعودی عرب نے لیبر ویزہ ختم کیے جانے کی تردید کر دی

ویزہ لیبر ختم کیے جانے کے بعد عامل کے ویزے پر کام کرنے والے غیر مُلکی پریشانی کا شکار تھے

ریاض : سعودی عرب میں گزشتہ چند روز سے لیبر ویزہ ختم ہونے کی خبریں گرم ہونے کے بعد لاکھوں غیر مُلکی پریشانی میں مبتلا ہو گئے تھے۔ تاہم وزارت محنت کے ترجمان کی جانب سے اس حوالے سے وضاحت سامنے آ گئی ہے جس کے بعد غیر مُلکیوں کو سُکھ کا سانس نصیب ہوا ہے۔ وزارت محنت و سماجی بہبود کے ترجمان خالد ابا الخیل نے بتایا ہے کہ لیبر ویزہ ختم نہیں کیا جا رہا۔
ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’ عامل کا ویزا ختم کرنے کے حوالے سے جو اطلاع گردش کررہی ہے ،وہ غلط ہے۔ وزارت محنت نے کوئی بیان نہیں دِیا ۔ وزارت کے کسی بھی عہدیدار نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ عامل کا ویزا ختم کردیا گیا ہے‘۔خالد ابا الخیل نے نجی اداروں اور کمپنیوں میں کام کرنے والو ں سے پھر کہا کہ وہ قوانین کے اجرا اور منسوخی سے متعلق معلومات صرف اور صرف وزارت محنت کے سرکاری ذرائع ہی سے حاصل کریں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب میں خبر شائع ہوئی تھی کہ لیبر اور سماجی ترقی کی وزارت میں پیشہ وارانہ جانچ پروگرام کے ڈائریکٹر نائف العمیر کا کہنا ہے کہ مذکورہ وزارت ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد اقاموں اور ویزوں میں پیشوں کی درجہ بندی اور بعض پیشوں کی تشکیل اور ان کے ناموں کے حوالے سے تبدیلیوں کو عمل میں لانا ہے۔ العمیر کے مطابق مستقبل میں ان کی وزارت کے نظام سے مرد یا خاتون "لیبر" کا ویزا یا پیشہ ختم کر دیا جائے گا۔
اس کے تحت کمپنیوں کی جانب سے پیشوں میں ترمیم لازم ہو گی۔ العمیر کے مطابق مذکورہ جانچ پروگرام اگلے ماہ دسمبر سے ایک ایک سال کے لیے اختیاری طور پر نافذ العمل ہو گا جس کے بعد یہ لازم قرار دیا جائے گا۔ تاہم پروگرام ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ اختیاری نفاذ کی مدت میں توسیع پر غور ہو سکتا ہے۔نائف العمیر نے بتایا کہ پیشہ وارانہ جانچ پروگرام سات ممالک پر لاگو ہو گا کیوں کہ مملکت میں آنے والی 95 فی صد لیبر کا تعلق ان سات ممالک سے ہے۔
یہ ممالک بھارت، فلپائن، سری لنکا، انڈونیشیا، مصر، بنگلہ دیش اور پاکستان ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت میں پیشہ وارانہ جانچ کی فیس 450 سے 600 ریال جب کہ مملکت سے باہر 100 سے 150 ریال کے درمیان ہو گی۔العمیر کے مطابق ابتدائی طور پر اس جانچ کا نفاذ پلمبر اور الکٹریشن پر ہو گا۔ اس کے بعد بتدریج ایئر کنڈیشننگ، آٹو الیکٹریشن، میکینک، بڑھئی، لوہار قصاب اور پھر تعمیراتی سیکٹر کے محنت کشوں کو شامل کیا جائے گا۔تاہم اس کی اب تردید سامنے آ چکی ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 16 نومبر 2019

Share On Whatsapp