”معاملات حکومت ٹھیک نہیں چل رہے“ وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کر لیا

وزیر اعظم نے ایف بی آر حکام سے ملاقات کے دوران کہا کہ عوام کا ٹیکس کے جائز استعمال پر اعتماد بحال ہونا ضروری ہے

اسلام آباد : وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی کو ناقص قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے معاملات اس وقت جس طرح سے چل رہے ہیں، اس کے باعث ملک ترقی کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔ کیونکہ ٹیکس ریونیو میں اضافہ نہ ہونے کے باعث ملکی معیشت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایک قومی اخبار کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے بُدھ کے روز ایف بی آر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران اُنہیں ٹیکس نیٹ میں اضافے کی تاکید کی ہے اور ایف بی آر کا ادارہ ختم کر کے اس کی جگہ پاکستان ریونیو اتھارٹی (PRA) کے قیام کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور ایف بی آر کے اعلیٰ افسران کو یقین دلایا کہ مالیاتی ادارے کی جگہ نئے ادارے کے قیام کے وقت کوئی بھی فیصلہ اُن سے مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کیا جائے گا۔
وزیر اعظم نے اس حوالے سے مجوزہ اصلاحات پر بھی بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے ایف بی آر حکام سے کہا کہ وہ اپنی سفارشات اور تحفظات کھُل کر پیش کریں اور اس فکر مندی کا اظہار کیا کہ عوام اُس وقت تک بڑھ چڑھ کر ٹیکس نہیں دے گی جب تک اُنہیں یہ یقین نہ ہو جائے کہ اُن کا جمع کرایا گیا پیسہ حکمرانوں کے اللوں تللوں اور شاہ خرچیوں کی بجائے مکمل طور پر عوامی فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے کوئی رقم نہیں ہے کیونکہ اسے بجٹ خسارہ ورثے میں مِلا ہے۔ عمران خان نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ وہ ایسے اقدامات اُٹھائیں جن کے باعث کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو اور ٹیکس مشینری کے حوالے سے اُن کی شکایات اور تحفظات دُور کیے جائیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اگر تمام سٹیک ہولڈرز یہ محسوس کر لیں کہ ٹیکس جمع کروانا اُن کی قومی ذمہ داری ہے تو پھر 8 کھرب کا ٹیکس اکٹھا کرنا کوئی مشکل ہدف نہیں ہو گا۔ وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران یہ بھی کہا کہ مملکت کو پُرانے طریق کار کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا کیونکہ اسے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ورثے میں مِلا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال کے دوران محصولات کی آدھی رقم قرض اُتارنے پر لگ گئی۔ تاہم عمران خان نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان کی نوجوان نسل میں ملک کو ترقی دینے کے حوالے سے بہت قابلیت موجود ہے۔ اگر نوجوانوں کو مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان ترقی اور خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 15 نومبر 2019

Share On Whatsapp