دُبئی: کافی شاپ کا مینجر اپنی ملازمہ کو 4 ماہ تک جنسی ہراسگی کا نشانہ بناتا رہا

ملازمہ نے بتایا کہ ملزم اُسے بات نہ ماننے کی صورت میں ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا

دُبئی : دُبئی پولیس نے ایک کافی شاپ کے مینجر کو اپنی ملازمہ کو مسلسل 4 ماہ تک جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے پر گرفتار کر لیا ہے۔ 31سالہ مصری ملزم 26 سالہ لڑکی سے بہت سی شرمناک حرکتیں بھی کرتا رہا اور اُسے دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر اُس نے بات نہ مانی تو وہ اُسے ملازمت سے نکال دے گا۔ فلپائنی ملازمہ نے تنگ آ کر البرشا پولیس اسٹیشن میں اپنے مینجر کے خلاف شکایت درج کرا دی۔
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ کافی شاپ میں سُپروائزر کی ملازمت کرتی ہے۔ مجھے نوکری کرتے ہوئے ایک سال سے زائد ہو گیا ہے۔میرا مینجر شروع سے ہی اکثر کاؤنٹر کے قریب آکر مجھ سے غلط حرکات کرتا۔ ایک بار اُس نے مجھے میرے لباس کی بیلٹ سے پکڑ کر کھینچا اور پھر میرے جسم کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ بھی کی۔ مینجر کی اس شرمناک حرکت کو وہاں موجود دیگر دو خواتین ورکرز نے بھی دیکھا تھا۔
اور اس کی ریکارڈنگ شاپ میں موجود سرویلنس کیمروں نے بھی محفوظ کر لی تھی۔ میں نے اپنی مینجمنٹ کو اس بارے میں آگاہ کیا تو انہوں نے اس بات کا کوئی خاص نوٹس نہ لیا۔ اس واقعے کے بعد میں بہت خوفزدہ رہنے لگ گئی۔ویسے بھی میری نوکری نئی نئی تھی، اس سے محروم ہونے کا مطلب مالی مشکلات کا سامنا کرنا تھا، اس لیے میں نے پولیس سے رجوع کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔
میری خاموشی کی وجہ سے مینجر اور زیادہ بے باک ہو گیا۔ ایک روز پھر اُس نے مجھے زبردستی اپنی گود میں بٹھا لیا اور میری مزاحمت کے دوران میرے گال بھی چُوم لیے۔ ساتھ میں میرے جسم کے ساتھ غلط حرکات بھی کرتا رہا۔ اُس کی بار بار کی حرکات سے تنگ آ کر میں نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے میری نوکری کو مسئلہ کیوں نہ ہو جائے، میں اب مزید اپنی ذلت برداشت نہیں کر سکتی۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 19 نومبر 2019ء کو ہو گی۔

تاریخ اشاعت : جمعرات 14 نومبر 2019

Share On Whatsapp