یہ ڈیل نہیں ریلیف ہے، ڈیل ایسی نہیں ہوتی

ڈیل یہ ہوتی ہے کہ سارے کیس بند کر دیے جائیں، سوئس اکاونٹس، سرے محل اور دولت چھوڑ دی جائے، اور جس معاہدے کو بعد میں سعودی حکام آکر سب کے سامنے دکھا دیں: سینیٹر فیصل جاوید

اسلام آباد : پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئیر رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے شریف خاندان کے ساتھ کسی بھی قسم کی ڈیل ہونے کا امکان کو مسترد کردیا ہے۔ فیصل جاوید نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ یہ ڈیل نہیں ریلیف ہے، ڈیل ایسی نہیں ہوتی ڈیل یہ ہوتی ہے کہ سارے کیس بند کر دیے جائیں، سوئس اکاونٹس، سرے محل اور دولت چھوڑ دی جائے، اور جس معاہدے کو بعد میں سعودی حکام آکر سب کے سامنے دکھا دیں۔
ڈیل یہ نہیں ہوتی کی کوئی بہت سخت بیمار ہے اور عدالت سے اسے ریلیف ملا ہو اور طبی بنیادوں پر اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ 
 یاد رہے کہ نواز شریف کو ضمانت ملنے اور ملک سے باہر جانے کی اجازت دیے جانے کے بعد یقاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ کوئی ڈیل ہوگئی ہے۔
آج بھی سینئیر صحافی صابر شاکر نے کہا ہے کہ نیب سے سزا یافتہ وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر رہائی اور بیرون مُلک روانگی ڈیل کا نتیجہ ہے، اسی وجہ سے مریم نواز کو بھی ضمانت مِلی ہے۔ اس سارے معاملے میں گیم چینجر شہباز شریف ہیں۔ صابر شاکر نے ایک نجی ٹی وی چینل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا امکان ہے کہ سارا کام سُکّے (مفت) پر نہیں ہوا،اس معاملے میں چیزیں طے ہوئی ہیں۔
جس پر سینیئر تجزیہ کار چودھری خادم حُسین نے کہا کہ نواز شریف کی صحت تھوڑ ی خراب تھی، زیادہ خراب تھی یا گھمبیر تھی۔ یہ سارا معاملہ کل آنے والی رقم کے باعث اتفاقیہ طور پر جُڑ گیا ہے۔ اس رقم کے آنے کا کوئی ذریعہ بھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ آپ 14 ارب ڈالر کی فِگر ذہن میں رکھیں۔ یہ رقم تھوڑی تھوڑی کر کے کچھ انویسمنٹ، کچھ کیش اور کسی اور طریقے سے پاکستان میں لانے کے لیے سب کچھ طے ہوا ہے۔
یہ 14 ارب ڈالر دو تین لوگوں کے ذریعے پاکستان آئیں گے۔ یہ 14 ارب ڈالر اور نوا ز شریف کی صحت کی خرابی کی بات یہ دونوں باتیں اکٹھی ہو گئی ہیں۔ دُوسری جانب معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ آخر حکومت نواز شریف کو باہر بھجوانے پر کیسے راضی ہو گئی؟،نعیم الحق نے کہا کہ نوا زشریف بیمار ہیں۔ لیکن اب سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ ڈیل نہیں ہوئی بس ریلیف دیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp