سکھ مت کے بانی بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کیلئے کرتار پور راہ داری کھول دی

, وزیر اعظم عمران خان نے افتتاح کیا ،سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ ، سابق کرکٹر نو جوت سنگھ اور بھاتری پنجاب وزیر اعلیٰ سمیت دنیا بھر کے سکھوں کی شرکت حکومتِ پاکستان نے 11 ماہ میں کرتار پور راہداری کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی ، گوردوارہ دربار صاحب کو دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا بھارتی سکھ یاتری پاسپورٹ اسکین اور بائیو میٹرک تصدیق کروا کر صرف 20 ڈالر فی کس سروس چارجز ادا کر کے آسکیں گے، بارہ نومبر تک انٹری فری

کرتارپور : پاکستان نے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سکھ مت کے بانی بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن پر سکھ یاتریوں کیلئے کرتار پور راہ داری کھول دی۔افتتاحی تقریب گوردوارے کے احاطے میں منعقد ہوئی جس میں سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ ، سابق کرکٹر نو جوت سنگھ اور بھارتی ادا کار سنی دیول اور بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور پیرنور الحق قادری، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذوالفقار بخاری بھی موجود تھے۔
%اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا اور پھر تقریب سے خطاب بھی کیا۔ناد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے 11 ماہ میں کرتار پور راہداری کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کر لی اور گوردوارہ دربار صاحب کو دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا۔سکھ یاتری اسے بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن پرحکومتِ پاکستان کی طرف سے تحفہ قرار دے رہے ہیں، بھارتی سکھ یاتریوں کی طرف سے لائی گئی سونے کی پالکی یہاں نصب کر دی گئی ہے۔
حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ گوردوارہ دربار صاحب پہلے 4 ایکڑ پر محیط تھا، اب اسے 42 ایکڑ پر وسعت دے کر دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا گیا ہے۔ارد گرد کی 8 سو ایکڑ اراضی بھی گوردوارے کے لیے مختص کر دی گئی ہے، جبکہ گوردوارے سے ملحقہ 26 ایکڑ اراضی پر باغات اور 36 ایکڑ پر فصلیں اگائی گئی ہیں، تزئین و آرامئشکے علاوہ یہاں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
کرتار پور راہداری ویزہ فری ہے، بھارتی سکھ یاتری پاسپورٹ اسکین اور بائیو میٹرک تصدیق کروا کر صرف 20 ڈالر فی کس سروس چارجز ادا کر کے آسکیں گے تاہم جذبہ خیر سگالی کے تحت 9 نومبر افتتاح کے موقع پر اور 12 نومبر بابا گرونانگ کے جنم دن کے موقع پر انٹری فری رکھی گئی۔بھارت سے آنے والے یاتری صبح آکر شام کو واپس چلے جایا کریں گے، کرتار پور راہداری کے راستے یومیہ 5 ہزار یاتری آسکیں گے، گوردوارے کی سیکیورٹی کیلئے 215 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں، مرد اور خواتین سکھ یاتریوں کے لیے الگ الگ تالاب بھی بنائے گئے ہیں۔
پاکستان میں سکھوں کے 2مقدس ترین مقامات ہیں، پہلا جنم استھان ننکانہ صاحب ہے، جہاں سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک دیو جی کی پیدائش ہوئی اور دوسرا گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور ہے، جہاں بابا گورونانک نے اپنی عمر کے آخری 18 سال گزارے اور یہیں وفات پائی۔گوردوارہ دربار صاحب کرتار پور سکھ مت کے ماننے والوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے جو لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر اور پاک بھارت سرحد سے صرف 4کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔
یہ گوردوارہ دریائے راوی کے کنارے چھوٹے سے گائوں کوٹھے پنڈ میں ا?باد ہے، یہ گائوں ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ میں آتاہے، سفید رنگ کا یہ خوبصورت گوردوارہ دور سے دیکھنے میں ایک پرندے کی مانند لگتا ہے۔گوردوارہ دربار صاحب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ سکھ مت کے بانی باباگورونانک دیو جی نے اپنی عمر کے ا?خری 18 سال گائوں کوٹھے پنڈ میں گزارے اور 22 ستمبر 1539ئ کو یہیں وفات پائی، یہاں ایک جانب ان کی سمادھی اور دوسری جانب قبر بنائی گئی ہے۔
گوردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی کے سیلاب میں تباہ ہو گئی تھی، موجودہ عمارت 1920ئ سے 1929ئ کے درمیان پٹیالہ کے مہاراجا سردار بھوپندر سنگھ نے تعمیر کرائی، 1995ئ میں حکومتِ پاکستان نے اس کی دوبارہ مرمت کی، جولائی 2004ئ میں یہ گوردوارہ مکمل طور پر بحال کر دیا گیا تقسیمِ ہند کے وقت یہ گردوارہ پاکستان کے حصے میں آگیا تھا، تقریباً 56 سال تک سکھ زائرین اس کی زیارت کے منتظر رہے، انہوں نے بھارتی سرحد پر دور درشن استھان بنا رکھے تھے، جہاں سے وہ دوربین کی مدد سے اس کا دیدار کیا کرتے تھے۔
سکھ برادری کئی دہائیوں تک راہداری کی تعمیر کا مطالبہ کرتی رہی، دونوں ملکوں کی پچھلی حکومتوں نے 1998ئ ، 2004ئ اور 2008ئ میں راہداری کی تعمیر کے لیے ابتدائی بات چیت بھی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔وزیرِ اعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں بھارتی کرکٹر سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو سے اس سلسلے میں بات چیت ہوئی، جس میں اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کا اعلان کیا گیا۔
2018ئ میں حکومتِ پاکستان نے کرتار پور راہداری اور گوردوارہ دربار صاحب کی تعمیر و توسیع کا کام شروع کیا، صرف 11 ماہ کی قلیل مدت میں دریائے روای پر پل سمیت راہداری کی تعمیر اور گوردوارے کی تعمیر و توسیع کا کام مکمل کر لیا گیا، 24 اکتوبر 2019ئ کو دونوں ملکوں کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے۔ گوردوارہ دربار صاحب پہلے صرف 4 ایکڑ پر محیط تھا، اب اسے 42 ایکڑ پر وسعت دے کر دنیا کا سب سے بڑا گوردوارہ بنا دیا گیا ہے، جس کے ارد گرد کی 8سو ایکڑ اراضی بھی گوردوارے کے لیے مختص کر دی گئی ہے، جبکہ گوردوارے سے ملحقہ 26 ایکڑ اراضی پر باغات اور 36 ایکڑ پر فصلیں اگائی گئی ہیں، تزئین و ا?رائش کے علاوہ یہاں بارہ دری، لائبریری، میوزیم، مہمان خانہ اور لنگر خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp