پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے ،کشمیر کا تنازعہ حل ہونے سے پورا برصغیر ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا

، امن سے کروڑوں افراد کا بھلا ہو سکتا ہے , یہ مسئلہ محض زمین کا معاملہ نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے ،مقبوضہ کشمیر میں انسانوں سے جانوروں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے،خوشی ہے کرتار پور راہداری کھولنے سے سکھوں کے دل خوشی سے بھر گئے , , وزیر اعظم عمران خان کا کرتا پور راہداری کا باضابطہ افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب

کرتارپور ۔ : وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر کا ہے ،کشمیر کا تنازعہ حل ہونے سے پورا برصغیر ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا اور امن سے کروڑوں افراد کا بھلا ہو سکتا ہے۔یہ محض زمین کا معاملہ نہیں بلکہ انسانیت کا مسئلہ ہے ،مقبوضہ کشمیر میں انسانوں سے جانوروں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے،خوشی ہے کہ کرتار پور راہداری کھولنے سے سکھوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔
ہفتہ کو کرتا پور راہداری کا باضابطہ افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بابا گرو نانک دیو جی کی 550ویں سالگرہ پر تمام سکھ برادری کو مبارکباد دی اور انہیں کرتار پور آمد پر خوش آمدید کہا۔وزیر اعظم نے انتہائی کم عرصہ یعنی دس مہینوں میں کرتار پور کا سارا کمپلیکس اور پل تعمیر کرنے پر ایف ڈبلیو او سمیت تمام حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور انکی کارکردگی کو سراہا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسلہ کشمیر کا ہے اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا تو پورا برصغیر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے اور برصغیر کے کروڑوں افراد کا بھلا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے کہا تھا کہ اگر مسئلہ کشمیر حل ہو جائے تو پورا برصغیر ترقی کے لحاظ سے بہت آگے جا سکتا ہے اور یہی بات میں نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی اپنے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے بھی کہی اور انہیں مذاکرات کی دعوت دی۔
لیکن آج مسئلہ کشمیر علاقائی مسئلے سے بھی آگے جا چکا ہے۔نو لاکھ بھارتی فورسز نے 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو یرغمال بنایا ہے۔عمران خان نے کہا کہ یہ محض زمین کا معاملہ نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے ،مقبوضة کشمیر میں انسانوں سے جانوروں کی طرح سلوک کیا جارہا ہے اور اسے مسئلے سے ہمارے تعلقات رک گئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ مودی کیلئے یہ پیغام ہے کہ انصاف سے امن اور ناانصافی سے انتشار پھیلتا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم مسئلہ کشمیر حل کر کے برصغیر کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کرا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر سرحدیں کھل جاتی ہیں، تجارتی اور اقتصادی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں تو سوچ لیں اس خطے میں کتنی خوشحالی آئیگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ فرانس اور جرمنی نے کتنی جنگیں لڑیں لیکن آج انکے تعلقات بحال ہیں،دونوں ملکوں کے عوام خوشحال اور سرحدیں کھلی ہیں اور جب کشمیر کے عوام کو اپنے حقوق مل جائیںگے تو اس خطے میں بھی خوشحالی آئیگی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ تعالی رب العالمین ہے،تمام انسانوں کیلئے۔ہمارے پیغمبر حضرت محمدؐ بھی رحمت للعالمین تھے۔جو بھی پیغمیر اس دنیا میں آئے انہوں نے انسانیت اور انصاف کا درس دیا۔اور یہ دو چیزیں انسانی معاشرے کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بابا گرو نانگ گرو جی کے فلسفے میں بھی یہ دو چیزں نظر آتی ہیں۔گرو نانک نے بھی انسانیت،انصاف اور رواداری کا درس دیا۔
برصغیر میں عظیم صوفی بزرگ بابا فرید، نظام الدین اولیا اور معین الدین چشتی گزرے ہیں۔انہوں نے بھی انسانیت اور انصاف کا درس دیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے کرتار پور کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ مجھے ایک سال قبل یہ معلوم ہوا کہ سکھوں کیلئے کرتار ایساہی ہے جیسے مسلمان مدینہ کو چار کلو میٹر سے دیکھ تو سکتے ہوں لیکن جا نہیں سکتے ہوں۔
وزیراعظم نے کہا لیڈر وہ ہوتا ہے جو نفرت پھیلانے کی بجائے لوگوں کو متحد کرے، اللہ کے سارے پیغمبر لیڈر تھے اور لیڈر ہمیشہ انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے نفرتیں نہیں پھیلاتا۔ انہوں نے کہا کہ نیلسن منڈیلا نے اپنی جدوجہد کے ذریعے نفرتوں کو ختم اور قوم کو متحد کیا۔ انہوں نے 27 سال جیل میں گزارنے کے باوجود مخالفین کو معاف کردیا۔ ہمارے رسول پاکؐ نے بھی محبت کے ذریعے اپنا پیغام پھیلایا۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp