انٹر پول کی جانب سے اسحاق ڈار کی گرفتاری سے انکار کا معاملہ

اسحاق ڈار نے سارے معاملے پر اپنا موقف دے دیا

اسلام آباد : سابق وزیر خزانہ گزشتہ کچھ عرصہ سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اُنہیں منی لانڈرنگ کیس میں مطلوب ہونے کے لیے قانونی طریقوں سے وطن واپس لانے کے لیے جتن کر رہی ہے۔ تاہم ان کوششوں کو اس وقت جھٹکا لگا جب حکومت پاکستان کی جانب سے انٹر پول کو اسحاق ڈار کو گرفتار کر کے واپس لانے کے لیے کی گئی درخواست رد کر دی۔
اس درخواست کے جواب میں انٹر پول کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کی گرفتاری اور وطن حوالگی کے لیے پیش کردہ ثبوت ناکافی ہیں۔ جس وجہ سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کے بعد سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی اپنا موقف دے دیا ہے۔ اسحاق ڈار نے ایک نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹرپول کا مجھے پاکستان واپس لے جانے کے سلسلے میں انٹرپول کی جانب سے کیے گئے فیصلے سے پتا چلتا ہے کہ برطانیہ ہو یا انٹرپول، یہاں ڈکٹیشن نہیں چلتی۔
یہ آزادانہ حق و انصاف پر مبنی فیصلے کرتے ہیں۔انٹرپول کے فیصلے کے بعد حکومت نے اپنی شرمندگی و شکست چھپانے کے لیے میرے گھر کی نیلامی کا فیصلہ دلوایا۔JIT نے میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے۔ سپریم کورٹ کو گمراہ کیا۔شہزاد اکبر میڈیاپر اورعدالتوں میں جھوٹ بولتے رہے۔ واضح رہے کہ انٹرپول نے حکومت پاکستان کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ کے اجراء کے لیے دی گئی درخواست مسترد کر دی ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے انٹرپول کو ثبوت فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مجھے سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے، میرا نام پانامہ لیکس میں ہے اور نہ ہی 20 اپریل 2017ئکے سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار کی طرف سے فراہم کردہ شواہد کو انٹرپول کے جنرل سیکرٹریٹ نے قبول کرتے ہوئے تمام بیوروز کو ان کی ڈیٹا فائلز حذف کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔
انٹرپول نے اسحاق ڈار کو بھی ریڈ وارنٹ جاری نہ کرنے کے فیصلے سے خط لکھ کر آگاہ کردیا ہے۔دوسری جانب انٹرپول نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو خط لکھ کر مطلع کیا کہ آپ کسی ریڈ نوٹس پر نہیں ہیں۔ انٹرنیشنل کرمنل پولیس آرگنائزیشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ محمد اسحاق ڈار انٹرپول کے نوٹس پر نہیں ہیں۔ انٹرپول کے ذرائع نے تصدیق کی کہ حکومت پاکستان نے وفاقی وزیر داخلہ کے توسط سے انٹرپول سے سابق وزیر خزانہ کی، جو ان دنوں لندن میں مقیم ہیں، گرفتاری کا وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی لیکن انٹرپول نے اسحاق ڈار کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد یہ درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp