علامہ محمد اقبال ؒکی شخصیت نے مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا،وزیر اعظم

امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے، عمران خان کا بیان

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علامہ محمد اقبال ؒکی شخصیت نے مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا،امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے۔ ہفتہ کو وزیر اعظم عمران خان نے یوم اقبال کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہاکہ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے یوم پیدائش کے موقع پر پوری قوم اور ملت اسلامیہ مفکر اسلام کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
انہوںنے کہاکہ علامہ محمد اقبال ؒکی شخصیت نے ایسے وقت میں مسلمانان بر صغیر کو ایک آزاد اور خودمختار اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کا راستہ دکھایا جب وہ غلامی کے اندھیروں اور ہندو اکثریت کے ظلم و نا انصافی کا شکار ہو کر منزل کا سراغ کھو بیٹھے تھے۔ آپ کے افکار نے مسلمانوں میں امید کی وہ شمع روشن کی جس کی روشنی سے منزل کا تعین ہوا اور بعد ازاں قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم قیادت میں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں دے کر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار مسلم ریاست کا قیام ممکن بنایا۔
علامہ محمد اقبال ؒ کے افکار عالمگیر حیثیت کے حامل ہیں، امت مسلمہ کو درپیش مختلف مسائل کی نشاندہی کرنے اور ساتھ ہی ان مسائل کا حل آپ کے شہرہ آفاق شعری مجموعوں اور کلام میں پنہاں ہے۔ آپ کاخودی کاتصور مسلمان کوبحیثیت مومن انفرادی اور اجتماعی طور پر اس قدر قوت بخشتا ہے جس کی بدولت دنیا میں عمل کے ذریعے فلاح اور ملت کو اقوام عالم میں سنہری مقام حاصل ہو سکتا ہے۔
انہوںنے کہاکہ آج ہمیں بحیثیت قوم اور امت مسلمہ مختلف نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ یہ شاعر مشرق کی دور اندیشی تھی جب انہوں نے ایسے انفرادی اور اجتماعی مسائل کی نشاندہی کی جن کا ہمیں موجودہ دور میں سامنا ہے۔ آپ نے دور جدید کے تقاضوں کو اجاگر کیا، جمہوری اقدار اور ترقی کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوئے فرد اور ملت کو معاشرے اور ریاست میں ہم آہنگی کے ذریعے موثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔
انہوںنے کہاکہ آج ہمیں علامہ محمد اقبالؒ کے افکار اور تصورات کی طرف نہ صرف رجوع کرنے بلکہ ان پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو کر اپنے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کا حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے عظیم ملک کو ایک ایسی ترقی یافتہ اسلامی فلاحی ریاست بنائیں جو مسلم تہذیبی شناخت کو مزید پروان چڑھائے اور ان آفاقی حیثیت کی حامل اعلی ترین اخلاقی اقدار کا عملی نمونہ ہو جن کی بنیاد ریاست مدینہ میں رکھی گئی تھی۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp