نریندر مودی کے ایک تیر سے دو شکار

کرتاپور راہداری کے افتتاح کے روز بابری مسجد کا من پسند فیصلہ سنوا کر جہاں بھارتی عوام کو خوش کیا وہیں پاکستانیوں اور سکھوں کو آپس میں لڑانے کی بھی کوشش کی

لاہور : آج کا دن پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جب سے کرتاپور راہداری کھولنے کا اعلان کیا تب سے ہی بھارت میں پاکستان زندہ باد اور عمران خان زندہ باد کے نعرے بلند ہونے لگے۔عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں نوجوت سنگھ سدھو کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو دی گئی 'جھپی' بھی بھارت کو خاصی ناگوار گزری۔چونکہ عمران خان کا شروع سے یہ موقف تھا کہ وہ تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ رویہ چاہتے ہیں لہذا انہوں نے یہ بیان جاری کیا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھیں گے۔
پاکستان نے جہاں 27 فروری کو بھارت کے دو طیارے گرانے کے بعد گرفتار بھارتی پائلٹ بھی واپس کیا،وہیں دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت چہرا اجاگر ہوا لیکن بھارت سے یہ بات ہضم نہ ہوئی اور اس نے ہر موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔عمران خان نے کہا کہ بھارت ایک قدم آگے بڑھے،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے یہ واضح کیا کہ ہم تو ایک قدم ایسے ہی بڑھا سکتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا۔کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کر کے بھارت نےدنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کی۔اب چونکہ پاکستان کا امیج کرتاپور راہدرای کی وجہ سے دنیا بھر میں اجاگر ہو رہا تھا،دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری عمران خان کے گن گانے لگی اور بھارت میں گھروں پر پاکستانی پرچم بلند ہو گئے۔
یہ تمام صورتحال نہ صرف مودی سرکار کے لیے پریشان کن ثابت ہوئی بلکہ بھارت میں موجود انتہا پسند ہندو تنظیموں سے بھی برداشت نہ ہوئی۔بھارتی حکومت کو خدشہ تھا کہ کرتاپور راہداری کھولنے سے جہاں دنیا میں پاکستان کے گن گائے جائیں گے وہیں بھارتی عوام کا بھی سخت ردِعمل دیکھنے میں آئے گا۔یہاں مودی نے ایک تیز سے دو شکار کیے اور عین اِسی وقت بابری مسجد کا فیصلہ سنایاگیا جس میں بابری مسجد کی جگہ مندر بنانے کا حکم دیا گیا،جہاں ایک طرف اس فیصلے سے انتہا پسند ہندوؤں کو رام کرنے کی کوشش کی گئی وہیں اس فیصلے سے پاکستانیوں کو سکھوں سے لڑانے کی بھی کوشش کی گئی۔
کیونکہ بھارتی سپریم کورٹ کے بابری مسجد سے متعلق فیصلے سے پاکستان میں بھی یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اگر ایک طرف پاکستان کررتاپور راہداری کھول کر بھارت کو غیر سگالی کا پیغام دیا جا رہا ہے تو دوسری طرف بھارت بابری مسجد پر قبضہ جما کر مسلمانوں کی دل آزادی کیوں کر رہا ہے۔بھارتی میڈیا پر بھی آج کرتاپور راہداری کی افتتاحی تقریب کے بجائے بابری مسجد کے فیصلے کو کوریج دے کر ہندوؤں کو خوش کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی پاکستانی صارفین کی طرف سے سخت ردِ عمل دیکھنے میں آرہا ہے کہ اگر پاکستان کوئی پرامن قدم اٹھا رہا ہے تو بھارت کیوں باربار مسلماںوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے والے اقدام کرتا ہے۔وزیراعظم عمران خان پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ جہاں وہ کرتاپور راہداری کھول رہےہیں وہیں وہ بابری مسجد کے حوالے سے کیے گئے فیصلے پر بھی آواز اٹھائیں۔اس تمام صورتحال میں کہا جا سکتا ہے کہ سازشی مودی نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں اور بابری مسجد کے فیصلے سے نہ صرف ہندوؤں کو خوش کیا ہے بلکہ پاکستانیوں اور سکھوں کو بھی آپس میں لڑانے کی کوشش کی ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp