ً”آج سِکھ برادری کے لیے بڑا دِن ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی“

سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی کرتار پور راہداری کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے، صحافیوں سے گفتگو میں پاکستان کی تعریفیں کر ڈالیں

نارووال : سِکھ قوم اپنے جس گُردوارے کے درشن دیدار کے لیے 70 سال سے منتظر تھی۔ آخر اُس کے کھُلے دیدار کا موقع اُنہیں نصیب ہو گیا۔ پاکستانی حکومت کی مہربانی سے سِکھوں کے لیے کرتار پور راہداری تعمیر کر دی گئی۔اس تاریخی راہداری کے افتتاح کے لیے وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی دیگر حکام اور وزراء کے ساتھ کرتار پور پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ سابق بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اوربھارتی پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ (ر) بھی کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔
اس کے علاوہ نوجوت سنگھ سدھو بھی آ چکے ہیں۔ سابق بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے گُردوارہ دربار صاحب کرتار پور پہنچنے پر کہا ہے کہ آج سِکھ برادری کے لیے بڑا دِن ہے۔ راہداری کھولنے سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ دُوسری جانب بھارتی وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ (ر) کا پاکستانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کھلنے پر سب خوش ہیں۔
میں بھی ستر سال بعد کرتار پور کھلنے پر خوش ہوں۔بھارت سے دس ہزار لوگ پہنچ گئے۔ پاکستان کے لوگوں کے اتنے شکر گزار ہیں کہ بیان نہیں کر سکتے۔ یہ راہداری اچھی شروعات ہے۔ یہ مطالبہ ستر سال پُرانا ہے۔واضح رہے کہ افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے 68 ممالک سے سِکھ یاتری پہنچ گئے ہیں۔ زیرو لائن کرتار پور سے سکھ یاتریوں کی آمد جاری ہے۔اس مقصد کے لیے سرحدی دروازے کھول دیئے گئے۔ تمام سِکھ ویزا فری کوریڈور سے پہنچ رہے ہیں۔ جو آج صبح آ کر شام کو واپس چلے جائیں گے۔ یہ تاریخ میں بہت بڑا لمحہ ہے۔ 68 ممالک سے سِکھ یاتری پہنچ گئے۔ حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بارڈر ٹرمینل پر 5 منٹ میں 130 یاتریوں کی رجسٹریشن ہو گی۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp