رانا ثناء اللہ کی ضمانت پر رہائی کی اُمیدیں ایک بار پھر دم توڑ گئیں

انسدادِ منشیات کی عدالت نے سابق صوبائی وزیر قانون کی درخواست دوبارہ مسترد کر دی

لاہور : مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت پر رہائی کی اُمیدیں ایک بار پھر اُس وقت دم توڑ گئیں جب انسداد منشیات کی عدالت نے اُن کے وکیل کی جانب سے ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کی گئی درخواست مسترد کر دی۔ اس طرح رانا ثناء اللہ کو فی الحال جیل میں ہی رہنا پڑے گا۔ آج صبح مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ضمانت کی درخواست پر انسداد منشیات عدالت نے سماعت کی۔
دوران سماعت رانا ثناء اللہ کے وکلا ء کی جانب سے ان کی ضمانت کے حق میں دلائل دیے گئے اور یہ کہا گیا کہ جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی وہ سیاسی بنیادوں پر کی گئی جس کی وجہ سے ان کی ضمانت مظور کی جائے۔جبکہ سرکاری وکیل کی جانب سے اس موٴقف کے خلاف دلائل دیے گئے اور کہا گیا کہ اس کیس میں اے این ایف نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں اور رانا ثناء اللہ سے منشیات برآمد ہوئی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ستمبر کے مہینے میں رانا ثناء اللہ کی رہائی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی تھی۔ جس کے بعد اُن کی اہلیہ نے ہائیکورٹ جانے کااعلان کیا تھا۔ اہلیہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ضمانت منسوخی کے خلاف ہائیکورٹ جاوٴں گی، مجھے اْمید ہے کہ انصاف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان غریبوں کی جان چھوٹی جو ناجائز پکڑے ہوئے تھے، ان کی بھی اللہ مدد کرے گا۔
یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ترجمان اے این ایف ریاض سومرو نے رانا ثنا ء اللہ کی گاڑی سے منشیات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔رانا ثنا اللہ خان کی گاڑی سے منشیات کی بھاری مقدار برآمد ہوئی اور ان کے خلاف نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ جسمانی ریمانڈ پر جیل میں قید ہیں۔رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلہ بھی میدان میں آگئی تھیں اور انہوں نے اپنے کئی بیانات میں موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم اب شوہر کی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد انہوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp