مودی حکومت کا سِکھوں کے حوالے سے ایک اور بغض بھرا اقدام

پاکستان سے دوستی کا دم بھرنے والے نوجوت سنگھ سدھو کوعین وقت پر واہگہ کے راستے پاکستان آنے سے روک دیا

لاہور : مودی سرکار کو سِکھوں کے اشتعال سے بچنے کی خاطر کرتار پور راہداری بنانے کے لیے پاکستان سے مجبوراً تعاون کرنا پڑا۔ اس راہداری کی تعمیر میں ایک نمایاں کردار سابق بھارتی کرکٹر اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ نوجوت سنگھ سدھو کا بھی ہے۔ اسی وجہ سے ہندو انتہا پرست انتظامیہ نے نوجوت سنگھ سدھو کو کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت سے روکنے کے لیے منفی ہتھکنڈے اپنا رکھے ہیں پہلے اُنہیں شرکت کے لیے اجازت نامہ دینے میں جان بوجھ کر دیر کی گئی اور آج جب اُنہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچنا تھا۔
تو عین وقت پر اُنہیں پاکستان آنے سے روک دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی حکومت نے نوجوت سنگھ سدھو کو واہگہ کے راستے پاکستان آنے سے روک دیاہے۔ 5 روز کے ویزہ کے باوجود اُنہیں عین وقت پر اٹاری پر روک لیاگیا۔ نوجوت سنگھ سدھو کے استقبال کے لے واہگہ پر موجود پاکستانی افراد واپس چلے گئے۔ جمعہ کے روز بھارتی حکام نے سدھو کو واہگہ سے اجازت کی یقین دہانی کروائی تھی،تاہم جب سدھو آج صبح واہگہ پہنچے تو بھارتی حکام نے روک لیا۔
نوجوت سدھو اب کرتارپور سے آئیں گے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان آج کرتار پور راہداری کا افتتاح کریں گے جس کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔بھارت کی جانب سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور سیاسی و سماجی رہنما نوجوت سنگھ سدھو کی شمولیت بھی متوقع ہے، افتتاحی تقریب کے دعوت نامے سفارتکاروں اور دیگر اہم شخصیات کو بھیجوائے گئے ہیں۔
معززین کیلئے ساٹھ فٹ لمبا اور چوبیس فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا جبکہ شرکا کے لیے پنڈال میں چھ ہزار کرسیاں، ساونڈ سسٹم اور اسکرینیں لگائی گئی ہیں۔ بارش کے پیش نظر پنڈال کو واٹر پروف بنایا گیا۔بابا گرونانک کی550 ویں جنم دن میں شرکت کیلیے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں نے سکھ یاتریوں کو ویزے بھی جاری کر دیئے ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مختلف ممالک سے پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو ویزے جارے کیے گئے ، مجموعی تعداد 10 ہزار تک جا سکتی ہے۔
ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی اور اب 21 برس بعد 9 نومبر کو کھولے جانے کا امکان ہے۔گوردوارہ دربار صاحب بین الاقوامی سرحد زیرو پوائنٹ سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فیصلے پر پاکستان میں واقع ہے۔ مذکورہ منصوبہ 823 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے اور تین سو تیس ایکڑ رقبے پر یاتریوں کے قیام کیلئے کمپلیکس بنایا گیا ہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp