خواتین ہیل والے جوتے اور چشمے لگا کر کام پر نہیں آئیں گی

جاپانی کمپنیوں میں متنازع اصول نافذ کردیا گیا

ٹوکیو ۔ :    دنیا بھر میں مختلف اداروں میں کام کرنے والے افراد کے لیے اپنے تئیں الگ الگ اصول و ضوابط نافذ ہوتے ہیں جس میں رہتے ہوئے ہی ملازم کام سرانجام دیتے ہیں۔ ان میں ان کا لباس،جوتے اور وضع قطع شامل ہوتی ہے۔تاہم اب جاپان میں نجی کمپنیوں نے ایک متنازع اصول نافذ کیا ہے کہ ان کے ادارے میں کام کرنے والے افراد کام پر ہیل والے جوتے اور چشمے لگا کر نہیں آئیں گے۔
اس پر ملک بھر میں خواتین سراپا احتجاج ہیں۔جاپان کی مختلف کمپنیوں نے اپنے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے قوانین نافذ کردیے جس کے تحت ڈیوٹی کے دوران چشمہ لگانے اور ہیل والی سینڈل پہننے پر پابندی ہوگی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنیوں نے یہ فیصلہ اچھا تاثر پیش کرنے کی وجہ سے کیا، پابندی عائد ہونے کے بعد جاپان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس اقدام کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔
کمپنیوں کے نافذ کردہ لباس کے قوانین سے متعلق خواتین سراپا احتجاج ہیں۔کیونکہ نئے قواعد کے مطابق ملازمت پیشہ خواتین ہیل والی سینڈل پہن کر بھی دفتر نہیں آسکتیں۔ملازمت پیشہ جاپانی خواتین نے ٹویٹر پر ہیش ٹیگ بھی چلایا جس میں کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فی الفور اس پابندی کو ختم کریں۔ ایک خاتون صارف نے لکھا کہ شاید ہمارے چہرے چشمہ لگا کر زیادہ غصے والے نظر آتے ہیں مگر یہ ہم شوق سے نہیں لگاتے بلکہ مجبوری میں پہنتے ہیں۔
جاپان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی رہنما کین ڈوئی کا کہنا تھا کہ ”اگر یہ قانون صرف خواتین کے لیے نافذ کیا گیا تو یہ امتیازی رویہ کہلائے گا جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے“۔تاہم ابھی تک کمپنیوںنے اپنے نافذ کردہ اصولوں میں کسی قسم کی کوئی نرمی نہیں برتی اور خواتین ملازمین بغیر ہیل اور چشمے کے ہی اداروں میں ملازمت کر نے کے لیے آ رہی ہیں جبکہ ملک بھر میں سوشل میڈیا پر کمپنیوں کی طرف سے نافذ کردہ اس نئے قانون پر شدید احتجاج کیا جا رہاہے۔

تاریخ اشاعت : ہفتہ 9 نومبر 2019

Share On Whatsapp