وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈراوراسمبلی میں قانون سازی جعلی ہے،مولانا فضل الرحمان

موجودہ اسمبلی جبری قوانین منظور کررہی، جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی جعلی ہوتی ہے، پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کو متنازع بنادیا گیا ، ضیاء الحق اورمشرف کے قوانین کی طرح یہ بھی واپس ہوں گے، چھوڑ واب پاکستان کی جان،گوعمران گو۔ آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب

لاہور : جمیعت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈراوراسمبلی میں قانون سازی جعلی ہے،موجودہ اسمبلی جبری قوانین منظور کررہی، جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی جعلی ہوتی ہے، پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کو متنازع بنادیا گیا ، ضیاء الحق اورمشرف کے قوانین کی طرح یہ بھی واپس ہوں گے، چھوڑ واب پاکستان کی جان،گوعمران گو۔
انہوں نے آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے۔کمیٹی میں ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات کرتے ہیں، ہم نے ان کو پیغام دیا ہے ہمارے پاس آؤ، تواستعفا لے کرآؤ، خالی ہاتھ نہ آیا کرو۔ قومی اسمبلی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے جس لب ولہجے سے تقریر کی ہے ، وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں، میں بتانا چاہتا ہوں اگر تم مفاہمت پر ہوتے تو لب ولہجہ ایسا نہ ہوتا۔
جب سے یہ اسمبلیاں بنی ہیں، قانون سازی نہیں ہوئی، دس پندرہ آرڈیننس کو جلدی میں منظور کرتے ہیں، ایسی جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی متنازعہ ہوں گے، یہ جبری قوانین ہیں، جو اسمبلی منظور کررہی ہے، ایسی اسمبلیوں کی قانون سازی اور وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈر بھی جعلی ہوں گے۔ہم بڑئی حساسیت سے کہتے ہیں کہ ملک کو کس طرف لے جایا جارہا ہے؟ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں اسمبلیوں نے قوانین پاس کیے ، مشرف نے قوانین منظور کیے تو آئندہ حکومتوں نے ان کا خاتمہ کردیا، ایڈہاک ازم سے ملک نہیں چلا کرتے۔
اسی لیے میں کہتا ہوں ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرو۔ چھوڑ واب پاکستان کی جان،گوعمران گو،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو کو متنازع بنادیا گیا ہے، میں مانتا ہوں کہ ہماری افواج پاکستان جنہوں نے قربانیاں دی ہیں ، ان سے اختلاف رائے کے باوجود ہم نے ان سے توقع رکھی کہ وہ قربانیوں کے نتیجے میں قوم کو امن دیں گے، ہمارا تعاون یا قربانیاں نہ ہوتیں تو فوج اکیلے اس ہدف کو حاصل نہیں کرسکتی تھی۔
تمام اکابرین جنہوں نے جام شہادت نوش کی، ہمارے ساتھیوں پرخود کش حملے کیے گئے، 30،30لوگ شہید ہوئے، یہ قربانیاں اس لیے دی تھیں کہ یہ بدبودار لوگ پاکستان پر مسلط ہوں گے۔اگر کوئی شخص اسلام کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، ہم اس کو پاکستان کے آئین کے تحت ملک پر قبضہ کرنے کا حق نہیں دے سکتے تو انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان جیسے کو بھی پاکستان پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
ہم ان کو قبضہ گروپ سمجھتے ہیں۔پاکستان قبضہ گروپ کیلئے نہیں بنا۔ہم پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو اس کوکیوں قبول نہیں کیا جارہا؟ ہم اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کوقومی یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں،ہم سب ایک ہیں، کیوں دنیا میں الگ تاثر جارہا ہے؟اس نے آتے ہی 10سال کے قرضوں کے حساب کیلئے کمیٹی بنائی۔ آج اس کمیٹی نے اعلان اور رپورٹ پیش کی ہے کہ ان قرضوں میں کوئی غبن نہیں ہوا۔
وہ جائز استعمال ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے منی لانڈرنگ ہوئی، ہنڈی کے ذریعے پیسا باہر بھیجا گیا، لیکن ہم کہاں جائیں ؟ ایف بی آر کہتا کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔ قرضوں کے حساب کیلئے خود کمیٹی بنائی۔آج اس کو مستعفی ہوجانا چاہیے۔سی پیک کی مد میں 70ارب ڈالر کا حساب دیا جائے، سی پیک کیوں برباد کردیا گیا؟ چین کو کیوں ناراض کیا گیا؟کشمیر کے مسئلے پر ہم کہہ چکے یہ کشمیر کو بیچ چکے ہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp