نواز شریف کا برطانیہ کی بجائے امریکا سے اپنا علاج کروانے کا فیصلہ

سابق وزیراعظم ممکنہ طور پر اتوار کے روز لندن کیلئے روانہ ہوں گے، بعد ازاں وہاں سے امریکا چلے جائیں گے

اسلام آباد : نواز شریف کا برطانیہ کی بجائے امریکا سے اپنا علاج کروانے کا فیصلہ، سابق وزیراعظم ممکنہ طور پر اتوار کے روز لندن کیلئے روانہ ہوں گے، بعد ازاں وہاں سے امریکا چلے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف لندن کی بجائے امریکا سے اپنا علاج کروایا چاہتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ برطانیہ پہنچ کر زیادہ وقت قیام نہیں کریں گے اور وہاں سے امریکا چلے جائیں گے۔
نواز شریف امریکا جا کر اپنی بیماری کا علاج کروائیں گے۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اتوار کو خصوصی ایئرلائن پر لندن جائیں گے۔ نوازشریف کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور جنید صفدر بھی جائیں گے۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے لندن میں 2 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ہارلے اسٹریٹ کلینک میں سوموار کیلئے اپوائٹمنٹ لیا گیا ہے۔
اسی طرح شریف فیملی کی نیویارک میں بھی ڈاکٹرز سے بات ہورہی ہے۔ مزید برآں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ایک بار پھر ان کی طبیعت کو تشویشناک قرار دیدیا۔ ڈاکٹر عدنان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سابق وزیر اعظم کے پلیٹس لٹس علاج کے باوجود مستحکم نہیں ہو رہے، پلیٹس لٹس مستحکم کرنے کیلئے دی جانے والی تھراپی بھی موثر ثابت نہیں ہو رہی۔
نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تشخیص نہ ہونے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو صحت کی صورتحال کے پیش نظر سپیشلائزڈ کیئر اور جدید علاج کی ضرورت ہے۔ مزید برآں وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست ملی ہے۔ وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو ریفرکیا ہے، شریف فیملی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے نیب کو بھی درخواست دی ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لیے۔ یہ رپورٹ میڈیکل بورڈ سے ان کا مئوقف حاصل کرنے کیلئے دی گئی ہے۔ شریف میڈیکل سٹی لاہورسے نواز شریف کی صحت کی رپورٹ طلب کی گئی۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp