وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی کی زیر صدارت پاکستانی سی فیئررز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹس کے دوسرے سہ ماہی اجلاس کا انعقاد

, مسائل اور تجاویز سنیں اور سی فیئررز کی فلاح کیلئے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کا اعلان کیا

اسلام آباد ۔ : وفاقی وزیر برائے بحری امور سید علی حیدر زیدی کی زیر صدارت کراچی میں پاکستانی سی فیئررز اور رجسٹرڈ میننگ ایجنٹس کے دوسرے سہ ماہی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر نے مسائل اور تجاویز سنیں اور سی فیئررز کی فلاح کیلئے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ سائن آن اور سائن آف کی شرط ختم کرنے اور کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا جسے سی فیئررز اور میننگ ایجنٹس نے سراہا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ ہمیں زرِمبادلہ کے حصول کے لیے تمام ذرائع استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور سی فیئررز کی جانب سے بھیجوائی جانے والی رقوم بھی اس کا ایک اہم جزو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سروسز مارکیٹ میں فلپائن جیسی چھوٹی آبادی والے ملک سے سی فیئررز کی بڑی تعداد کا حصہ ہونا ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ ہماری افرادی قوت صلاحیتوں میں کسی قدر پیچھے نہیں۔
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ صحیح سمت میں اقدامات اٹھائے جائیں۔ اس سے ریڈ ٹیپ ازم اور غیر ضروری رکاوٹوں سے آزاد سی فیئررز نہ صرف ملک کی دنیا بھر میں مؤثر نمائندگی کرسکے گا بلکہ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈال سکے گا۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے پہلے اجلاس میں کئے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے سائن آف اور سائن آن کی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اس اعلان کے بعد کسی غیر ملکی جہاز جوائن کرنے کیلئے اب سی فیئررز کو شپنگ ماسٹر سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں رہے گی بشرطیکہ وہ قابل قبول پاسپورٹ اور ویزہ،قابل قبول ایس ایس بی،قابل قبول ایس آئی ڈی کارڈ ،میننگ ایجنٹ سے اپوائینٹمنٹ لیٹر اور جہاز کے مالک سے ایمپلائیمنٹ لیٹر کا حامل ہو۔ انہوں نے اجلاس کے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ سی فیئررز کیلئے اوکے ٹو بورڈ پالیسی کے اطلاق کیلئے وزارتِ خارجہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
اس کے علاوہ ساٹھ سالہ سی فیئررز کو اب دس سالہ معیاد کی ایس ایس بی جاری کی جائے گی۔ کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں میڈیکل کی سہولت کی فراہمی کیلئے ڈاکٹر زکے پینل کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے صرف ایک ڈاکٹر کراچی میں اس فریضے کو سر انجام دے رہا تھا جس کی وجہ سے سی فیئررز کو مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور مسئلہ جو کہ اس سال کے شروع میں منظرِ عام پر آیا وہ ایس آئی ڈی کارڈ کے اجرا کا رکنا تھا جسے ہنگامی بنیادوں پر نادرا اور کے پی ٹی کے تعاون سے حل کر لیا گیا۔
مزید یہ کہ اس کیلئے ایک مستقل نظام کیلئے فنڈ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ مشین ریڈ ایبل ایس آئی ڈی کارڈ نادرا سے جاری کئے جائیں گے ۔ شپنگ آفس کے ڈیٹا کو ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے، جس سے آن لائن تصدیق ممکن ہوگی جو کہ پوری وزارت کو ڈیجیٹل کرنے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا کہ"میری ٹائم آفس‘‘ پیپر لیس انوائرنمنٹ کی طرف جا رہا ہے۔
ای آفس متعارف کرایا جا رہا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ میری ٹائم منسٹری عالمی معیار کے مطابق اپنا کام سر انجام دے سکے۔گورنمنٹ شپنگ آفس کے پبلک ڈیلنگ کے اوقات کو سہ پہر ایک بجے سے بڑھا کر تین بجے تک کر دیا گیا ہی. اسی طرح کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے چوبیس گھنٹے سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔سی فیئررز کو اعلیٰ تعلیم اور ان کے ڈپلومہ کو ڈگری میں بدلنے میں مدد کیلئے چالیس سے ذیادہ کیڈٹس کو مختلف یونیورسٹیز میں داخلے میں مدد دی گئی ہی. دیگر یہ کہ پاکستان میرین اکیڈمی میں کے پی ٹی، پی این ایس سی اور پی کیو اے کے اشتراک سے 37 سکالر شپس کا اجراء کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ سکالرشپ اگلے چار سال تک مسلسل فراہم کئے جائیں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اجلاس کے انعقاد سے یہ صاف ظاہر ہے کہ حکومت لوگوں کے مسائل سننے اور حل کرنے کیلئے نہایت سنجیدہ ہے۔وفاقی وزیر علی زیدی نے اجلاس کے آخر میں شرکاء کے سوالات کے جوابات دئیے اور سی فیئررز کے مسائل اور تجاویز سنیں۔ اگلا سہ ماہی اجلاس فروری میں منعقد ہوگا۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp