کافی عرصہ ہوا نہ تو وزیراعظم اور آرمی چیف کی کوئی خبر آئی نہ کوئی تصویر جاری کی گئی

ایک فریق کا رویہ کافی محتاط ہو چکا ہے۔ سینئیر صحافی و کالم نگار صابر شاکر

اسلام آباد : : ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی وکالم نگار صابر شاکر نے اپنے حالیہ کالم میں لکھا کہ کون کس کے ساتھ مخلص نہیں ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا، اتنا کچھ کہ جس پر پیپلز پارٹی اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمان مطمئن ہوں۔ انہوں نے اپنے کالم میں کہا کہ تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی باز گشت کے بعد اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق ، بی این پی ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے اپنے بال سنوارنے شروع کردئے ہیں۔
ان کا خیال ہےکہ اگر ایسا کچھ ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرےپر اعتماد نہیں کریں گے اور ان میں سے کسی کا چھکا لگ سکتا ہے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے یہ پہلا بڑا سیاسی چیلنج ہے اور اگر پاکستان تحریک انصاف نے یہ مسئلہ جلد حل نہکیا تو پھر ہمارے سیاسی کلچر کے عین مطابق کوئی اتحادی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ صورتحال کا جلد سیاسی حل نکالا جائے۔
صابر شاکر نے اپنے کالم میں لکھا کہ جس روز اتحادیوں کی جانب سے یہ بیان سامنے آ گیا اُس دن اقتدار کے پاؤں تلے سے زمین کھسک جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ کافی عرصہ ہوا وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی نہ تو کوئی خبر آئی اور نہ ہی کوئی تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ ملاقات جب بھی ہو گی کافی اہم ہو گی۔ ایک فریق کا رویہ کافی محتاط ہو چکا ہے کیونکہ اب کوئی کسی دوسرے کا وزن اُٹھانے کے لیے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی ماحول ۔ صابر شاکر نے مزید کہا کہ اپوزیشن نے پہلے مرحلے میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور اس تحریک کے نتائج دھرنے کے نتائج کی نوید دے سکتے ہیں کہ امپائر کا موڈ تبدیل ہوا یا نہیں۔

تاریخ اشاعت : جمعہ 8 نومبر 2019

Share On Whatsapp