ادلب میں روسی طیاروں کے فضائی حملے ، طبی عملے کے پانچ ارکان جاں بحق

روس کے جنگی طیاروں نے ادلب کے دیہی علاقوں پر 12 سے زیادہ فضائی حملے کیے،شامی آبزرویٹری

ادلب : شام کے شمالی صوبے اِدلب میں واقع ایک گاؤں شنان پر روسی طیاروں کے حملوں میں الاخلاص ہسپتال کے طبی عملے کے 5 ارکان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے بتائی۔اسی طرح روس کے جنگی طیاروں نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ادلب کے دیہی علاقوں پر 12 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ادلب اور اس کے اطراف تیس لاکھ کے قریب افراد آباد ہیں جن میں آدھی تعداد دیگر علاقوں سے نقل مکانی کر کے آنے والوں کی ہے۔
ان میں ہزاروں افراد شامی اپوزیشن کے گروپوں کے وہ جنگجو ہیں جن کو دیگر صوبوں میں بشار کی فوج کے حملوں کے بعد وہاں سے نکال لیا گیا۔بشار حکومت اور اس کے حلیف روس نے رواں سال اپریل کے اواخر سے ادلب صوبے پر بم باری میں اضافہ کر دیا تھا۔ بعد ازاں اگست میں ایک فوجی آپریشن شروع کیا گیا جس کے دوران ادلب کے جنوب میں کئی علاقوں پر کا کنٹرول حاصل کر لیا گیا۔
اقوام متحدہ کے مطابق اس جارحیت کے سبب تقریبا ایک ہزار شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور چار لاکھ سے زیادہ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔علاوہ ازیں اگست کے اواخر سے ماسکو کی جانب سے اعلان کردہ فائر بندی کے اطلاق نے نسبتا خاموشی پیدا کر دی ہے۔ تاہم وقتا فوقتا متفرق جھڑپوں اور روسی طیاروں کی یلغاروں کے ذریعے اس فائر بندی کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔ روس نے حال ہی میں شامی مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی رفتار میں اضافہ کر دیا ہے۔

تاریخ اشاعت : بدھ 6 نومبر 2019

Share On Whatsapp