دُبئی میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے رقم لُوٹنے والے 3 پاکستانی گرفتار

ملزمان رقم لُوٹنے کے بعدمتاثرہ شخص کو رسیوں سے باندھنے کے بعد فرار ہو گئے تھے

دُبئی : دُبئی پولیس نے تین پاکستانی باشندوں کو ڈکیتی کی واردات انجام دینے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے نائف کے علاقے میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے ایک کار سوار شخص سے 55 ہزار درہم لُوٹ لیے اور جاتے وقت اُسے رسیوں سے باندھ گئے۔ تینوں ملزمان کی عمریں 27 سے 39 سال بتائی گئی ہیں جو کہ بے روزگار ہیں۔
یہ واردات چار پاکستانیوں نے انجام دی تھی، تاہم چوتھا ملزم ابھی گرفتار نہیں کیا جا چکا ہے، پولیس اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ 37 سالہ متاثرہ شخص نے بتایا ”میں لوہے کا ساز و سامان بنانے کے پیشے سے وابستہ ہوں۔ وقوعے کے روز میں فریج المرار کے علاقے میں اپنے دیگر ملازمین کے کام کی نگرانی کر رہا تھا۔ صبح 11بجے میں ایک دُکان سے الیکٹرانکس کا کچھ سامان خرید کر باہر آیا تو چار افراد نے میرے گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے میرا راستہ روک لیا اور اپنا تعارف خفیہ پولیس کے اہلکاروں کے طور پر کرایا۔
یہ جعلی اہلکار مجھے زبردستی پکڑ کر ایک عمارت کی داخلی راہداری لے گئے، اور میرے ہاتھوں کو رسی سے باندھ دیا ۔ پھر ایک شخص نے میرا بٹوہ نکال دیا اور اس میں سے میرا شناختی کارڈ ڈھونڈنے کا ڈراما کرتے رہے۔۔ اس کے بعد انہوں نے میری جیب سے گاڑی کی چابیاں نکالیں اور گاڑی کا دروازہ کھول کر وہاں موجود رقم نکال کر موقع سے فرار ہو گئے۔ میں کافی دیر تک وہیں بندھا ہوا پڑا رہا اور مدد کے لیے شور مچاتا رہا۔
میری چیخ و پُکار سُن کر لوگ وہاں آ گئے۔ رسیوں سے آزاد ہونے کے بعد میں نے جب جا کر گاڑی کی چیکنگ کی تو وہاں پر پڑی 55ہزار درہم کی رقم غائب تھی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد اکٹھے کرنے کے بعد ملزمان کا سُراغ لگا لیا اور انہیں ان کے ٹھکانوں سے گرفتار کر لیا۔ ملزمان کا چوتھا ساتھی فی الحال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ متاثرہ شخص نے تینوں ملزمان کو پولیس اسٹیشن میں شناخت کر لیا تھا۔عدالت کی جانب سے ملزمان کے بارے میں فیصلہ 21 نومبر 2019ء کو سُنایا جائے گا۔

تاریخ اشاعت : بدھ 6 نومبر 2019

Share On Whatsapp