سعودی عرب میں آتش زدگی کے واقعات میں 80 فیصد ہلاکتیں بچوں کی ہوتی ہیں

مملکت میں آتش زدگی کے روزانہ اوسطاً 144 واقعات ہوتے ہیں، ہلاکتوں کی بڑی وجہ دم گھُٹنا ہے

جدہ : سعودی عرب میں آتش زدگی کے رُونما ہونے والے واقعات میں 80 فیصد ہلاکتیں بچوں کی ہوتی ہیں۔ جبکہ آتش زدگی کے 43 فیصد واقعات رہائشی اپارٹمنٹس میں ہوتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف محکمہ شہری دفاع کی جانب سے ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ شہری دفاع کے مطابق گزشتہ سال مملکت میں آتش زدگی کے 40 ہزار 200واقعات پیش آئے۔ زیادہ تر واقعات رہائشی اپارٹمنٹس میں پیش آئے جن کی شرح 65 فیصد بتائی گئی ہے۔
مملکت میں ہر ایک گھنٹے کے دوران آتش زدگی کے 6 واقعات رونما ہوتے ہیں، اس لحاظ سے اوسطاً روزانہ آتش زدگی کے 144واقعات ہوتے ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ آتشزدگی کے دوران 90 فیصد ہلاکتیں جل مرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ دم گھُٹنے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ محکمہ شہری دفاع کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے اعداد وشمار سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ گزشتہ سال آتش زدگی کے سب سے زیادہ واقعات مکہ ریجن میں رُونما ہوئے۔
گزشتہ سال مکہ ریجن میں آتش زدگی کے 16 ہزار سے زائد واقعات پیش آئے، جس کی روزانہ اوسط 44 بنتی ہے۔ دُوسرے نمبر پر مشرقی ریجن اور تیسرے نمبر پر ریاض، مدینہ، قصیم اور دیگر ریجن آتے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق آتش زدگی کے زیادہ تر واقعات رات کے وقت ہوتے ہیں، جب لوگ گہری نیند میں ہوتے ہیں۔ آگ لگنے کی اہم وجوہات میں شارٹ سرکٹ، بچوں کا خطرناک اشیاء سے کھیلنا، چولہے پر پانی وغیرہ گر کر آگ بجھنے سے گیس کی لیکیج، یا پھر کسی مقام پر گیس بھر جانے سے وہاں اچانک ماچس لگانا ہے۔
اکثر بچے گیس سلنڈر، چولہے یا بجلی کی تاروں اور اشیاء سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں، جس سے اچانک آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ گھروں میں معیاری وائرنگ نہیں کرواتے، جس کی وجہ سے تاروں پر اوور لوڈ ہونے سے آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ کئی بار رات کو موبائل فون چارجنگ پر لگانے سے بھی یہ موبائل پھٹ پڑتا ہے۔ محکمہ دفاع کی جانب سے کہا گیا ہے کہ رات کو سونے سے پہلے گیس سلنڈر کو بند کر دینا چاہیے، غیر ضروری لائٹس بُجھا دینی چاہئیں۔ ہر شہری کو اپنے گھر میں آگ بجھانے والا سلنڈر بھی رکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ سموک ڈیٹکٹر بھی لازمی لگوانے چاہئیں۔

تاریخ اشاعت : بدھ 6 نومبر 2019

Share On Whatsapp