بے ہوش لڑکی سے زیادتی، ہسپانوی عدالت نے ملزمان کو ریپ کی بجائے جنسی ہراسانی کے تحت سزا سنا دی

14 سالہ لڑکی کو ’بے ہوشی‘ کے وقت ’جنسی زیادتی‘ کا نشانہ بنایا اور متاثرہ لڑکی کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، اس لیے ملزمان پر ’ریپ‘ کے الزامات نہیں لگائے جا سکتے: عدالت

بارسلونا : بے ہوش لڑکی سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو ہسپانوی عدالت نے ریپ کی بجائے جنسی ہراسانی کے تحت سزا سنا دی۔ تفصیلات کے مطابق یورپی ملک سپین کی عدالت کی جانب سے کم عمر بے ہوش لڑکی کا ’ریپ‘ کرنے والے 5 ملزمان پر ’ریپ‘ کے الزامات کے بجائے معمولی جنسی ہراسانی کے تحت 10 سے 12 سال کی سزا سنائی گئی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق اسپین کے قوانین کے تحت اگر متاثرہ شخص اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی سے متعلق ہر بات جانتا ہو، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنے کی کوشش کرنے کے دوران بے بس ہوجائے اور ملزمان ان کے ساتھ زیادتی کریں اور اسے اندازہ ہو کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے تبھی کوئی جرم ’ریپ‘ کے زمرے میں آتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 14 سالہ لڑکی کو ’بے ہوشی‘ کے وقت ’جنسی زیادتی‘ کا نشانہ بنایا اور متاثرہ لڑکی کو اس بات کا اندازہ ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا، اس لیے ملزمان پر ’ریپ‘ کے الزامات نہیں لگائے جا سکتے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق اسپین کے قوانین کے تحت اگر متاثرہ شخص اپنے ساتھ ہونیوالی ناانصافی سے متعلق ہر بات جانتا ہو، وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنے کی کوشش کرنے کے دوران بے بس ہوجائیں اور ملزمان ان کے ساتھ زیادتی کریں اور اسے اندازہ ہو کہ اس کیساتھ کیا ہوا ہے تبھی کوئی جرم ریپ کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت کے مطابق چونکہ لڑکی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے وقت بے ہوش تھی اور اسے اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اس کے ساتھ کب، کیا، کیسے اور کیوں ہوا، اس لیے ملزمان پر ’ریپ‘ کے الزامات نہیں لگائے جا سکتے۔ ساتھ ہی عدالت نے پانچوں مرد ملزمان کو معمولی جنسی ہراسانی کے الزامات کے تحت سزا سنائی جس پر نہ صرف بارسلونا کے میئر بلکہ انسانی و خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں نے بھی سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

تاریخ اشاعت : اتوار 3 نومبر 2019

Share On Whatsapp