Five So-Called Hitmen Convicted After Subcontracting Deal To Assassinate Businessman To Each Other

کاروباری شخص کے قتل کا ذمہ ایک سے دوسرے قاتل تک ہوتا ہوا پانچ قاتلوں تک پہنچ گیا۔ سب قاتل گرفتار

ایک چینی کاروباری شخص اور پانچ ممکنہ قاتلوں کو عدالت نے قید کی سزا سنائی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی کاروباری شخص نے  اپنے کاروباری حریف کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ ایک قاتل کو دیا۔ قاتل  نے یہ کام آدھے پیسوں میں دوسرے قاتل کو دے دیا، دوسرے قاتل نے آدھے پیسوں میں یہ کام تیسرے قاتل کو دیا۔ تیسرے قاتل نے مزید کم پیسوں میں یہ کام چوتھے قاتل کے ذمے لگایا۔

چوتھے قاتل نے  قتل کی ذمہ داری   آدھے پیسوں میں پانچویں قاتل کو سونپی تاہم پانچویں قاتل تک پہنچتے پہنچتے رقم اتنی کم ہو چکی تھی کہ اس نے قتل نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

6 سال پہلے ناننگ، چین میں ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے مالک ٹان یوہوئی نے اپنے کاروباری حریف وی  نامی شخص کو ٹھکانے  لگانے کا فیصلہ کیا۔ وی نے ٹان کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہوا تھا۔

ٹان  اس کام کے لیے 2 ملین یوان یا 2 لاکھ 82 ہزار ڈالر ادا کرنا چاہتا تھا۔ ٹان نے اس کام کا ذمہ شی گوانگان کو دیا۔ شی گوانگان نے سوچا کہ یہ  کام خود کرنے کی بجائے آدھے پیسوں میں کسی اور سے کرایا جائے اور ٹان سے مزید رقم کا مطالبہ کیا جائے۔ شی گوانگان نے یہ کام 1 ملین یوان (1 لاکھ 41 ہزار ڈالر) میں مو ٹیانشیانگ نامی شخص کے سپرد کر دیا اور پھر ٹان سے مزید 1 ملین یوان کا مطالبہ کر دیا۔
ٹان نے مزید ایک ملین یوان کی ادائیگی  کی  حامی بھر لی لیکن یہ ادائیگی کام ہونے کے بعد کی جانی تھی۔اس کے بعد حالات کافی پیچیدہ ہوگئے۔ مو ٹیانشیانگ نے قتل کا ذمہ لینے کےبعد فیصلہ کیا کہ اپنے ہاتھ خون سےرنگنے سے بہتر ہے کہ یہ کام کسی اور سے کرا لیا جائے۔ مو ٹیانشیانگ نے یہ کام  یانگ کانگشینگ کے سپرد کردیا۔ یانگ کو اس کے لیے2 لاکھ 70 ہزار یوان پہلے ادا کر دئیے گئے جب کہ  مزید 5 لاکھ یوان کام کےبعد ادا کیےجانے تھے۔
یانگ کانگشینگ نے بھی فیصلہ کیا کہ خود قتل کرنے کی بجائے یہ کام  کسی اور سے کرایا جائے ۔ یانگ کانگشینگ نے یہ کام 2 لاکھ یوان نقد اور 5لاکھ کام کے بعد  کا کہہ کر ایک دوسرے یانگ کو دے دیا۔ دوسرے یانگ نے یہ کام ایک اور قاتل  لنگ شیاسی کے سپرد کر دیا۔ لنگ کو اس کام کے 1 لاکھ یوان (14 ہزار ڈالر) دینا طے پائے۔ تاہم اس وقت تک  قتل کی فیس کم ہوتے ہوتے بہت تھوڑی رہ گئی تھی۔
لنگ نے فیصلہ کیا کہ اتنی تھوڑی سی رقم کے لیےقتل کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے شکار یعنی وی سے مل لیا جائے اور انہیں اپنے قتل کے ڈرامے پر راضی کر لیا جائے تاکہ اسے رقم مل سکے۔  اپریل 2014 میں لنگ نے وی سے ملاقات کر کے انہیں ساری صورتحال بتائی۔ وی نے اپنے قتل کا ڈراما کرنے کی بجائے پولیس کو ساری صورتحال بتا دی۔ پولیس نے لنگ کو گرفتار کر  لیا۔ گرفتاری کے بعد لنگ نے  سارا کچھا چٹھا کھول دیا اور پولیس بتدریج  وی کے کاروباری حریف ٹان تک پہنچ گئی۔

ایک چینی عدالت نے حال ہی میں  ٹان کو 5 سال قید، شی گوانگان کو  ساڑھے تین سال قید، دونوں یانگ کو سوا تین سال قید، مو ٹیانگشیانگ کو تین سال قید اور لنگ کو دو سال سات ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

تاریخ اشاعت : منگل 22 اکتوبر 2019

Five So-Called Hitmen Convicted After Subcontracting Deal To Assassinate Businessman To Each Other
Share On Whatsapp
سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں